.

بھارت : مسلمان کو قتل کرکے رقم اکٹھی کرنے والا ہندو انتہا پسند گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں ایک سفاک ہندو نے ایک مسلمان کو قتل کرکے اس کی ویڈیو انٹر نیٹ پر پوسٹ کردی اور پھر اس کے ذریعے رقم اکٹھی کرنے کی کوشش کی ہے لیکن وہ اس کوشش میں ناکام رہا ہے اور پولیس نے اس کو قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

بھارت کی مغربی ریاست راجستھان میں گذشتہ ہفتے قتل کا یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ راجستھان اور ملک کے دوسرے علاقوں میں انتہا پسند ہندو جتھے گائیوں کو لے جانے والے مسلمانوں کو آئے دن قتل کرتے رہتے ہیں اور حالیہ مہینوں میں ہندو بلوائیوں کے ہاتھوں تشدد سے متعدد مسلمان قتل ہوچکے ہیں۔

پولیس کے ایک افسر آنند شری وستوا نے بتایا ہے کہ شمبو لال ریگڑ نامی ایک ہندو نے راجستھان میں ایک مسلمان مزدور کو قتل کرنے کے بعد جلا دیا تھا۔پھر اس نے اس کی ویڈیو انٹر نیٹ پر پوسٹ کی تھی ۔ اس کے ساتھ اپنے بنک کھاتے کی تفصیل بھی دی تھی اور لوگوں سے مسلم مخالف مہم کے لیے چندہ دینے کی اپیل کی تھی۔

انھوں نے بتایا ہے کہ بھارت بھر سے سات سو سے زیادہ افراد نے اس کے اکاؤنٹ میں تین لاکھ روپے جمع کرائے تھے۔ نفرت پر مبنی جرم کے بعد یہ شخص ہیرو بننا چاہتا تھا اور اس کا اصل مقصد رقم اکٹھی کرنا تھا۔

اس انتہا پسند ہندو قاتل کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی ۔اس کے بعد حکام نے اس کو انٹرنیٹ سے ہٹا دیا ہے۔پولیس کے تفتیش کاروں نے اس کا بنک کھاتا منجمد کردیا ہے اور اس کے اکاؤنٹ میں رقوم جمع کرانے والے لوگوں کا بھی سراغ لگایا جارہا ہے۔

شری وستوا نے بتایا ہے کہ ویڈیو میں ریگڑ خود کو ایک متفخر ہندو کے طور پر پیش کر رہا ہے جس نے ’’ محبت جہاد‘‘ کو روکنے کی کوشش کی تھی ۔واضح رہے کہ ہندو انتہا پسند یہ اصطلاح ان مسلم نوجوانوں کے لیے استعمال کرتے ہیں جو ان کے بہ قول ہندو عورتوں کو اپنی محبت میں ورغلا کرکے پہلے ان کا مذہب تبدیل کراتے ہیں اور پھر ان سے نکاح کر لیتے ہیں۔اس شادی کو وہ محبت جہاد کا نام دیتے ہیں۔

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو مسلمانوں پر ہندو بلوائیوں کے حملوں کو رکوانے میں ناکامی پر کڑی تنقید کا سامنا ہے لیکن حکومت اس تنقید کو مسترد کرتی چلی آرہی ہے۔البتہ نریندر مودی نے اتنا ضرور کیا ہے کہ وہ گائے کے تحفظ کے نام پر ہندو بلوائیوں کے پر تشدد حملوں کی مذمت ضرور کردیتے ہیں۔

بھارت کی ایک ارب بتیس کروڑ نفوس پر مشتمل آبادی میں سے قریباً سترہ کروڑ بیس لاکھ مسلمان ہیں۔مودی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ انتہا پسند ہندو گروپ مسلمان اقلیت کو دیوار سے لگانے کی کوشش کررہے ہیں اور وہ ان پر بلا اشتعال حملے کرتے رہتے ہیں۔