.

اسدی فوج کے حملے میں آنکھ سے محروم شیرخوار بچے سے آن لائن اظہار ِیک جہتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے تباہ کن فضائی اور زمینی حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور اس کی فضائی بمباری اور گولہ باری کا عام شہری نشانہ بن رہے ہیں۔

گذشتہ جمعہ کو دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع مشرقی الغوطہ کے علاقے میں دو ماہ کا ایک شیر خوار بچہ کریم بھی شامی فوج کی توپ خانے سے کی گئی گولہ باری کی زد میں آ گیا تھا ، ان کے مکان پر گولہ گرنے سے اس کی بائیں آنکھ ضائع ہوگئی ہے اور اس کے سر میں بھی زخم آیا ہے۔

اس شامی بچے کی زخمی حالت میں تصویر انٹر نیٹ کے ذریعے منظرعام پر آئی ہے ۔اس کے بعد سے دنیا بھر سے بچے انٹر نیٹ پر اس کے ساتھ اظہار یک جہتی کررہے ہیں۔وہ اپنی بائیں آنکھ پر ہاتھ رکھ کر بنائی گئی تصاویر سوشل میڈیا پر کریم کی تصویر کے ساتھ شئیر کررہے ہیں۔

شام کے ایک آزاد صحافی ہادی العبداللہ نے ٹویٹر پر اطلاع دی ہے :’’ مشرقی الغوطہ میں اسد رجیم کی گولہ باری سے کریم ایک آنکھ سے محروم ہوگیا ہے اور اس حملے میں اس کی والدہ جاں بحق ہوگئی تھی‘‘۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے اور اس زخمی بچے کی اس کے بہن بھائیوں کے ساتھ تصاویر جاری کی ہیں۔

شامیوں کے علاوہ دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے بچوں نے بھی اس شیر خوار کے ساتھ بھرپور انداز میں اظہار یک جہتی کیا ہے اور ٹویٹر پر ’’ کریم سے یک جہتی‘‘ کا رجحان سب سے سرفہرست تھا۔

شیر خوار کریم  اپنے بہن بھائیوں  کے ساتھ ۔
شیر خوار کریم اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ ۔