.

ایک کپ کافی بنانے کا اتفاقیہ واقعہ سائنسی نظریہ کیسے بنا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس میں کوئی کلام نہیں کہ شاندار ذائقے دار کافی کا ایک کپ تیار کرنے کے لیے بھی مہارت اور تجربہ درکار ہوتا ہے۔ مگر اس باب میں ایک چونکا دینے والا انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ ’لاتہ کافی[Latte] کی تیاری میں ایک سائنسی تھیوری پنہاں ہے۔ وہ یہ کہ یہ کافی تیار کرنے کا ماہر آپ کو بتائے گا کہ اگر آپ ’لاتہ کافی‘ کا ایک کپ بھی تیارکرنا چاہتے ہیں تو پہلے ’اسپریسو‘ ڈال کر گرم کریں اس کے بعد اس پر دودھ ڈالیں نہ کہ پہلے دودھ اور بعد میں ایسپریسو۔

مگر’لاتہ‘ کا ایک اور طریقہ بھی مروج ہے جسے ’لیئرڈ لاتہ‘ یا ’پرتوں‘ والی کافی کہا جاتا ہے۔ آپ انسٹا گرام پر جائیں تو آپ کو اس کی بے شمار تصاویر بھی مل جائیں گی۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق کافی بنانے والے مشروبات کی تیاری اور انہیں نت نئے انداز میں پیش کرنے کے تجربات کرتے ہیں مگر مختلف شکلوں والی یہ کافی ایک کپ گرم دودھ پر اسپریسو ڈال کر بنائی جاتی ہے۔ فرابوچینو یونیکورن اور لاتہ قوس قزح جیسے مشروب کی تیاری کی تیاری کا یہ عوامی طریقہ نہیں مگر اس کا اپنا ایک خاص جادوئی اثر ہے۔

وجہ تسمیہ

متعدد تہوں والی ’لاتہ‘ کا نام کہاں سے اور کیسے پڑا؟۔ اس وجہ تسمیہ کا تعلق ایک امریکی انجینیر سے ہے۔ ریاست اریگون کے علاقے پورٹ لینڈ کے ریٹائرڈ انجینیر پوپ وانک ھوزر اس مشروب کے بانی مانے جاتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ اتفاق وانک ہوزر ہی سے سرزد ہوا۔ اس نے یہ کافی گھر پر تیار کی۔ وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ اس طرح کافی تیار کرنے سے اس پر تہہ در تہہ خوبصورت شکلیں کیسے بنتی چلی جاتی ہیں؟ اس کا کہنا ہے کہ یہ کیفیت بلا شبہ حیران کن اور توجہ طلب تھی۔ اس کا کوئی واضح سبب نہیں کہ کوئی سائل چیز مختلف کثافتوں والی تہہ در تہہ اشکال میں مربوط ہوتی جائے۔

اتفاق یا انکشاف

مشہور ہے کہ’ ضرورت ایجاد کی ماں ہے‘۔ اسی نقطہ نظر سے انجینیر فانک ھوزر نے کافی پر مُتشکل ہونے والی تہہ دار اشکال کو سائنسی انداز میں جاننے کی کوشش کی۔ اس نے برنسٹن یونیورسٹی میں ’لیکوڈ ڈائنامکس‘ کے استاد ڈاکٹر ہوارڈ سٹن کو ایک ای میل میں اپنے گھر میں بنائی ’لاتہ‘ کی تصاویر ارسال کیں اور ان سے کہا کہ وہ اپنی تجربہ گاہ میں اس کے بارے میں تحقیق کریں اور بتائیں کہ اس کیفیت کا راز کیا ہے؟

واحد مفید طریقہ

ڈاکٹر ہوارڈسن نے اپنی ٹیم کے ساتھ ان تصاویر کی روشنی میں تحقیقات شروع کیں اور ان تحقیقات کے نتائج سائنسی جریدے ’نیچر کمیونیکیشن‘ میں شائع کیے۔ ان میں کہا گیا کہ یہ ایک سادہ اور آسان طریقہ ہے جسے کوئی بھی شخص اپنے گھر میں بناسکتا ہے مگر یہ تجربہ مختلف تہوں والی جیل تیار کرنے والے شیف حضرات کے لیے بھی ایک نیا راستہ بنا۔ اسی طرح حیاتیاتی ماہرین کے لیے بھی ایک سائنسی تھیوری ثابت ہوا جوانسانی جسم کے مصنوعی ٹشوز کی تیاری پر کام کررہے تھے۔ وہ بھی یہ جان کر حیران رہے کہ جس چیز کا وہ تجربہ کرنا چاہتے ہیں اس کا صرف یہ ایک ہی مفید طریقہ ہے۔

’لاتہ‘ مشروب کی تیاری کے لیے اسپریسو اور دودھ کو باہم ملا کر تیار ہونے والی کافی کی طرز پر سائنسی ٹیم نے اسی طرز پر قہوے کا مشروب تیار کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے رنگ دار اُبلا پانی نمکین گاڑھے گرم پانی میں ڈالا تاکہ اس کی مدد سے اپنا تجربہ آگے بڑھائیں۔ اس تجربے نے اس غیر معمولی تہوں کی ترتیب کا رازمنکشف کردیا۔ ماہرین نے اسی طرز پر گرم اسپریسو کو گرم دودھ میں ڈالا۔ سائنسدان یہ جان کر حیران رہے کہ ایسا کرنے سے درجہ حرارت اور کثافت میں ایک نیا تعامل پیدا ہوتا ہے جو پانی کو مختلف کثافت کی تہوں اور شکلوں میں تقسیم کردیتا ہے۔

درجہ حرارت اور کثافت

ڈاکٹراسٹن کی زیرنگرانی ان کے ایک طالب علم نان شیویہ نے ان کی تجربہ گاہ میں انکشاف کیا کہ اگرآپ ان تہوں کو ہلکے اندازمیں تحریک دیتے رہیں تو یہ منٹوں سے گھںٹوں اور دنوں میں پھیل سکتا ہے۔

جب تک مکسچر اپنےارد گرد کی ہوا سے زیادہ گرم ہے۔ اس وقت تک اس کو حرکت دینے سے اس کی کثافت اور بڑھتی ہے مگر جب حرکت دینے کا عمل لاتہ کو کمرے کے درجہ حرارت کے برابر گرم ہونے کے بعد ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں لائنیں اور تہیں پھیل جاتی ہیں۔

تہہ دار لاتہ کی تیاری کے عمل کے لیے گرم اسپریسو کا ایک چمچ دودھ کے ایک بڑے کپ میں اس وقت شامل کریں جب دودھ بھی اتنا ہی گرم ہو۔ اس کے بعد اسے چند منٹ کے لیے چھوڑ دیں۔ آپ دیکھیں گےکہ مکسچر جیسے جیسے ٹھنڈا ہو رہا ہے اس میں تہیں بن رہی ہیں۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ کامیابی تجربے کی مرہون احسان ہوتی ہے۔ کافی کا ایک کپ تیار کرنے کے تجربے نے سائنس دانوں کو مصنوعی انسانی ٹشوز کی تیاری کی ایک نئی جہت سے روشناس کیا۔