.

ٹوٹی ہڈیوں کے دیسی سعودی معالج نے یہ پیشہ کیوں اپنایا!

طالب المومن والد سے وراثت میں ملنے والے پیشے سے وابستہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر میں علاج کے جدید ترین طریقوں اور ٹیکنالوجی کے متعارف ہونے کے باوجود لوگ آج بھی روایتی اور دیسی طریقہ علاج پر اعتبار کرتے ہیں۔ دیسی طریقوں سے علاج کرنے والوں میں سعودی عرب کے ایک روایتی ’آرتھوپیڈک‘ طالب المومن بھی شامل ہیں جنہوں نے یہ پیشہ اپنے والد سے سیکھا۔ یہ کام ان کے ہاں نسل درنسل چلا آ رہا ہے۔ طالب المومن کے والد اور دیگر اقارب ہڈیوں کا علاج کرتے تھے۔ طالب کے اپنے دو بیٹے بھی اسی روایتی طریقہ علاج کو اپنے والد سے سیکھنے کے بعد آگے بڑھا رہے ہیں۔

مختلف حادثات اور واقعات میں ہڈیوں کے ٹوٹ جانے اور عضلات کے اپنی جگہ سے پھسلنے کے کیسز بہت زیادہ ہیں۔ سعودی عرب کے شہر الاحساء سے تعلق رکھنے والے دیسی آرتھوپیڈک اور حکیم ’طالب المومن‘ جڑی بوٹیوں کے ذریعے اور پرانے طریقوں سے ہڈیوں کو جوڑنے اور مفاصل کو اپنی جگہ پر لانے کا علاج کرتے ہیں۔

ان کے ہاں ہڈیوں کے جوڑنے کے لیے جڑی بوٹیوں کی مدد سے دوائی تیارکی جاتی ہے۔ وہ ہڈی کے ٹوٹنے کے مقام پروہ دوائی لگانے کے بعد اسے مضبوطی سے باندھ دیتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے المومن نے بتایا کہ سعودی عرب میں جدید طبی سہولتوں کے باوجود لوگ ان کے پاس آتے اور ٹوٹی ہڈیوں کا علاج کراتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والد کی طرف سے ملنے والے اس پیشے کی تکریم کے طور پر کام کرتے ہیں، ورنہ مملکت میں ہڈیوں کے امراض کے ایک سے بڑھ کرایک علاج کے طریقے موجود ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں المومن نے کہا کہ مرد حضرات، خواتین اور بچوں میں ہڈیوں کےٹوٹنے کے کیسز ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ بڑی عمر کے افراد میں ہڈیاں جڑنے کے لیے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے جب کہ شوگر کے مرض کا شکار افراد کی ہڈیوں کا علاج بھی وقت طلب ہوتا ہے۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سنہ 1980ء کے عشرے میں ان کے والد مملکت اور دوسرے خلیجی ملکوں میں ہڈیوں کے دیسی معالج کے طورپر مشہور تھے۔ خود المومن نے آغاز میں سعودی آئل کمپنی ’ارامکو‘ میں ملازمت اختیار کی مگر جلد ہی وہ ملازمت چھوڑ کر اپنے والد کی اس میراث کو آگے بڑھانے میں دن رات سرگرم ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ 14 سال کے تھے جب انہوں نے ایک معمر خاتون کی ٹوٹی ہڈی کو جوڑا۔ اب انہوں نے اپنے دو بیٹوں کو بھی اس فن سے روشناس کردیا ہے۔

دیسی طریقہ علاج کے بارے میں بات کرتے ہوئے المومن نے کہا کہ ٹوٹی ہڈیوں کوآپس میں جوڑنے کے لیے انہیں لکڑی کی لمبی لمبی تختیاں جو عموما کھجور یا کسی دوسرے درخت کی ہوتی ہیں، کھجور کی چھال، روئی اور کپڑا وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ علاج کے لیے پہلے طبی مراکز اور اسپتالوں میں جاتے ہیں اور وہاں پر علاج سے مطمئن نہ ہو کر اس سے رجوع کرتے ہیں۔ المومن نے بتایا کہ وہ ضرورت مند افراد کا علاج مفت کرتے ہیں۔