.

مصر:طلاق کی خوشی میں خاتون کا جشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرمیں جہاں معمولی واقعات پر طلاق معمول کی بات ہے وہاں ایک خاتون نے ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے شوہر سے طلاق لینے کے بعد ’آزادی کا جشن‘ منا کر ایک نئی بحث چھیڑ دی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 27 سالہ دینا عبداللہ سلیمان کا تعلق المنوفیہ بدلتا گورنری کے شہر قویسنا سے ہے۔ حال ہی میں اس نے عدالت کے ذریعے اپنے شوہر سے طلاق لےلی تھی۔

دینا سلیمان جو ایک بنک میں اکاؤنٹنٹ ہیں نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ شادی کے بعد دو سالہ عرصہ اس کے لیے مسلسل پریشانیوں کا باعث بنا۔ اس نے شوہر کے’عذاب‘ سے نجات پانے پر طلاق کی خوشی کا جشن منانے کا اہتمام کیا جس میں دوست احباب کو بھی مدعو کیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں دینا عبداللہ سلیمان نے کہا کہ ان کا شادی کے بعد میاں بیوی کے طورپر گذرنے والا وقت صرف 40 دن پر مشتمل تھا۔ میں نے دو سال قبل ایک کمپیوٹر انجینیر سے شادی کی۔ منگنی کے 10 ماہ بعد اس کی شادی ہوگئی تھی۔ منگنی کے بعد کے پورے عرصے میں اس کے ہونے والے شوہر کی طرف سے کوئی بدسلوکی سامنے نہیں آئی۔ ہماری شادی کے بعد شوہر کا والد فوت ہوگیا اور اور شوہر جہیز میں ملنے والا تمام منقولہ سامان اپنی ماں کے گھر لے گیا۔

دینا کا کہنا ہے کہ اس کےشوہر کےساتھ اختلافات اور تنازعات ساس کے گھر میں رہنے سے پیدا ہوئے۔ شوہر نے دھمکی دی کہ مجھے اس کی ماں اور بہنوں کے ساتھ ہی رہنا ہوگا ورنہ اسےتنہا کردیا جائے گا۔

اس دوران شوہر نے سوشل میڈیا پر دوسری لڑکیوں کے ساتھ بھی راہ و رسم قائم کرنا شروع کردیے۔ یہ سب کچھ اس کے لیے ناقابل برداشت تھا۔اس لیے اس نے شوہر سے علاحدگی کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا تھا۔

دینا عبداللہ سلیمان کا کہنا ہے کہ وہ شوہر کے گھر سے چلی گئیں۔اس وقت وہ امید سے تھیں۔

دینا نے طلاق کا کیک کاٹتے ہوئے کہا کہ آج وہ بہت خوش ہے کیونکہ اسے ایک ظالم انسان کے چنگل سے نجات ملی ہے۔