.

بنگلہ دیشی عازمینِ حج سے سعودی عرب جانے، آنے کا دُگنا کرایہ کیوں وصول کیا جاتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا کی بیشتر فضائی کمپنیاں حج سیزن کے دوران میں مدینہ منورہ ، مکہ مکرمہ اور جدہ جانے والے عازمین کے کرایوں میں اضافہ کردیتی ہیں لیکن ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کوئی فضائی کمپنی اس مقدس سفر کے لیے کرائے میں دُگنا تک اضافہ کردے مگر بنگلہ دیش کی فضائی کمپنی ایسا ہی کرتی ہے اور اس مسلم اکثریتی ملک سے تعلق رکھنے والے عازمین حج ِ کو دُگنا تک کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے۔

گذشتہ سال 127178 بنگلہ دیشی عازمین سعودی عرب فریضۂ حج کی ادائی کے لیے گئے تھے۔اس سال کے لیے بنگلہ دیشی حکومت آیندہ ہفتے حج پیکج کا اعلان کرنے والی ہے۔مجوزہ حج اخراجات میں پروازوں کے کرایوں کی مد میں اٹھنے والی رقم شاید دیگر اخراجات میں سب سے زیادہ ہوگی۔

بیمان بنگلہ دیش ائیر لائنز کے مطابق ڈھاکا سے جدہ اور جدہ سے ڈھاکا پرواز کا عام کرایہ 50 سے 60 ہزار ٹکا تک ہے لیکن ایک عازم حج کو سعودی عرب جانے کے لیے اصل کرائے سے دُگنا تک ادا کرنا پڑتا ہے۔گذشتہ سال بیمان بنگلہ دیش ائیر لائنز اور سعودی ائیر لائنز کی حج پروازوں پر جانے والے عازمین حج کو فی کس 124723 ٹکا کرایہ ادا کرنا پڑا تھا اور یہ کرایہ حکومت کا مقرر کردہ تھا۔

طیارے پر سفر کے علاوہ ایک حاجی کو سعودی عرب میں قیام وطعام اور مقامی ٹرانسپورٹ کے لیے الگ سے بھی رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ دونوں فضائی کمپنیاں بنگلہ دیشی حاجیوں سے ہی دُگنا تک کرایہ کیوں وصول کرتی ہیں؟

بیمان کے حکام اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ حج پروازوں کو چلانے کی لاگت عام پروازوں کی لاگت سے زیادہ ہوتی ہے۔ان پروازوں پر صرف عازمین حج ہی سوار ہوسکتے ہیں اور دوسرے کسی مسافر کو قواعد کے تحت سوار نہیں کیا جا تا ہے۔

تاہم پڑوسی ملک بھارت میں حج سیزن کے دوران میں پروازوں کے کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جاتا ہے حالانکہ وہاں سے بنگلہ دیش سے زیادہ تعداد میں عازمین حج سعودی عرب جاتے ہیں۔پاکستان اور انڈونیشیا میں بھی فضائی کمپنیاں معمول کے کرائے وصول کرتی ہیں اور ان میں اضافہ نہیں کیا جاتا ہے۔

ایک اور سوال یہ ہے کہ کیا بنگلہ دیشی عازمین کو دُگنا کرایہ ادا کرنے پر کوئی اضافی سہولت بھی دی جاتی ہے؟ اس کا جواب بیمان بنگلہ دیش ائیر لائنز کے جنرل مینجر برائے تعلقات شکیل معراج یہ دیتے ہیں کہ ان کی فضائی کمپنی حج کے دوران میں ایک منزل سے دوسری منزل تک براہ راست پروازیں اور مخصوص حج پروازیں چلاتی ہے۔ ان کی کوئی ٹرانزٹ پرواز نہیں ہوتی جبکہ بھارتی یا انڈونیشی عازمین حج کو یہ سہولت حاصل نہیں ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی طیارہ سفر کے دوران میں درمیان میں کسی ہوائی اڈے پر رکتا ہے تو اس ٹرانزٹ سفر کی وجہ سے مزید چار سے چھے گھنٹے لگ جاتے ہیں۔اس سے عازمین حج کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔نیز بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے بیشتر عازمین حج دوسرے ممالک کے عازمین کی نسبت ضعیف العمر ہوتے ہیں۔

طیاروں کے کرایوں میں اضافے کی وجہ سے ایک بنگلہ دیشی عازم حج کا مکمل حج سفر کا خرچہ تین لاکھ ٹکا سے بھی بڑھ جاتا ہے۔تاہم بھارت کے شہر کولکتہ سے حج پر جانے والے کا خرچ 83 ہزار روپے ( 109000 ٹکا) اور ممبئی کے مکین کا 58 ہزار بھارتی روپے ( 76 ہزار ٹکا) خرچ آتا ہے۔