.

جدہ میں دنیا کی بلند ترین عمارت کی تعمیر کا عنقریب آغاز ہو گا

1000میٹر بلند برج کا تخمینہ ڈیڑھ ارب ڈالر لگایا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ممالک دُنیا کی بلند ترین عمارتوں کے حوالے سے پہلے بھی عالمی شہرت رکھتے ہیں۔ اس باب میں سعودی عرب نے ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے بحر احمر کے کنارے پر واقع جدہ شہر میں دُنیا کی بلند ترین عمارت تعمیر کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔

دنیا کی بلند ترین عمارت کے پراجیکٹ ڈائریکٹر منیب حمود نے خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ اس طرح کے غیر معمولی منصوبے عموما تاخیر کا شکار رہتے ہیں مگر دنیا کی اب تک تعمیر ہونے والی بلند عمارتوں میں سب سے اونچی عمارت بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ توقع ہے کہ منصونے کے مطابق 2020ء تک اس نئی اور بلند ترین عمارت کا افتتاح کیا جائے گا۔

ماہرین کا کہناہے کہ انہیں عمارت کی تعمیر کے لیے زیرزمین نصف میل تک رطوبت والی مٹی درکار ہے جس میں کنکریٹ کے بھاری پائپ ڈالے جائیں گے۔ ماہرین کا کہناہے کہ انہیں غیرمعمولی بلند عمارت کی تعمیر میں لفٹیں لگانےمیں مشکل کا سامنا رہے گا۔

جدہ اکنامک کمپنی، گنڈم ہولڈنگ کمپنی جس کے 33 فی صد شیئرز ہیں اور سعودی بن لادن کمپنی اس پراجیکٹ کی اہم ٹھیکیدار ہوں گی۔ اخبار"سعودی گزٹ" کی رپورٹ کے مطابق فلک بوس عمارت میں نصف ملین مکعب میٹر کنکریٹ اور 80 ہزار ٹن لوہا استعمال کیا جائے گا۔

اس منصوبےپر چار ارب 60 کروڑ ریال صرف ہوں گے۔ جدہ کی اس بلند ترین عمارت میں کئی لکژری ہوٹل، شاپنگ مال، رہائشی فلیٹس اور دفاتر قائم کیے جائیں گے۔200 منزلہ اس عمارت کی160 منزلیں صرف رہائشی مقاصد کے لیے ہوں گی۔

ماہرین تعمیرات کا کہنا ہے کہ 3000 فٹ بلند برج میں پانی کی سپلائی بھی ایک پیچیدہ مسئلہ رہے گا تاہم یہ تمام پیچیدگیاں دور کرنا ناممکن بھی نہیں۔

خیال رہے کہ اب تک دنیا کی بلند ترین عمارت متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں بُرج الخلیفہ ہے جس کی بلندی 828 میٹرہے۔ ان کےعلاوہ بلند ترین عمارتوں میں شنگھائی ٹریڈ سینٹر492 میٹر، نیویارک میں اپمپائر اسٹیٹ 381 میٹر پیٹروناس جڑواں ٹاور 492 میٹربلند عمارتیں قرار دی جاتی ہیں۔