.

کیا امریکا بشار کی اقتدار سے علاحدگی کے مطالبے سے دست بردار ہو چکا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جاری عوامی انقلاب کی تحریک کو دبانے اور کچلنے کے لیے اسد رجیم نے نہ صرف طاقت کے استعمال کا سہارا لیا بلکہ نہتے شہریوں کے خلاف ’کلورین‘ جیسی گیس سے تیار کردہ ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کر کے شہریوں کے بے رحمانہ قتل عام جیسے سنگین جرم کا بھی بار بار کھلے عام استعمال کیا گیا۔

اگرچہ خان الشیخون کے مقام پر گذشتہ برس اسدی فوج کے کیمیائی حملے اور اس کے رد عمل میں امریکی فوج کی شام میں الشعیرات فوجی اڈے پر کارروائی کے بعد بشارالاسد کی طرف سے مہلک ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا ہے۔

دوسری جانب امریکیوں نے بھی اسد رجیم کے خلاف سیاسی اور سفارتی بھڑک بازی کی حد تک خود کو محدود رکھا اور کسی قسم کی فوجی کارروائی نہیں کی گئی۔

عسکری کارروائی کا عندیہ

امریکی حکام نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ ایام کے دوران شام میں اسدی فوج کی طرف سے شہریوں پر ’سیرین‘ گیس کے حملے کی خبریں آئی ہیں مگر کسی تیسرےفریق یا غیر جانب دار ذرائع سے ان خبروں کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ محاذ جنگ کی صورت حال پر نظر رکھنے والی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے تصدیق کی ہے کہ شامی فوج نے سیرین کا کلورین گیس سے تیار کردہ ہتھیاروں سے شہریوں پر حملے کیے ہیں، مگرامریکا کو اس حوالے سے کسی ٹھوس ثبوت کی ضرورت ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ امریکی نتظامیہ کلورین گیس کے شہریوں کے خلاف استعمال کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے مترادف سمجھتی ہے۔

امریکیوں کا کہنا ہے کہ شام میں اسد رجیم کی جانب سے شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملوں کے بعد امریکا کے پاس فوجی کارروائی سمیت کئی آپشنز موجود ہیں۔ اسد رجیم کے انسانیت کے خلاف جرائم کے ردعمل میں فوجی کارروائی حتمی اور آخری آپشن نہیں۔

پچھلے چند ایام میں امریکی عہدیداروں کا شام میں اسد رجیم کے خلاف لہجہ سخت ہوا ہے۔ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے پینٹاگون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ شام میں کیمیائی حملوں کے بارے میں خبروں اور ان کی حقیقت کے بارے میں جان کاری کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کیمیائی حملوں کے بارے میں ٹھوس معلومات درکار ہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نیکی ہیلے نے کہا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی میں امریکا اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش نہیں ہوگا۔

روس کے ساتھ تعاون

یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ شامی رجیم امریکیوں کو مسلسل اشتعال دلانے کی کوشش کر رہی ہے، مگر امریکی اس کے جواب میں سفارت کاری پر زور دیتے ہیں۔ امریکا، شام میں اسد رجیم کے ضامن روس کے ساتھ مل کر جنگ سے تباہ حال ملک میں امن کی بحالی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ شام میں اسد رجیم کے خلاف امریکی فوج کا طاقت کا استعمال روس کو شامی حکومت کو مذاکرات کی میز پر لانے پر مجبور کر سکتا ہے۔ امریکا اور روس کے درمیان طے پائے سمجھوتوں کے تحت واشنگٹن روس کے ذریعے شام کو مذاکرات کے لیے آمادہ کرنے کا پابند ہے۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ کی زیرنگرانی جنیوا مذاکرات نہایت اہم ہیں۔ جنیوا مذاکرات ہی شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

امریکیوں کا خیال ہے کہ روس کی زیر سرپرستی سوچی کانفرنس بری طرح ناکام ہوئی ہے۔ روس اقوام متحدہ کے فورم سےہٹ ہر اور قرارداد 2254 کو نظر انداز کرکے شام میں قیام امن کی کسی سفارتی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ میں شام کے سیاسی مستقبل میں بشارلاسد کا کوئی کردار نہیں دیکھتی۔ دوسری جانب امریکا شام میں اپنی فوج کو اسدی فوج کے مقابلے میں اتارنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور نہ امریکی امداد حاصل کرنے والے کسی گروپ کو اسد رجیم سے محاذ آرائی کی اجازت دینے پر تیار ہے۔

امریکیوں کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں شام میں قیام امن کا واحد راستہ جنیوا مذاکرات کو آگے بڑھانے میں اور اس کے حوالے سے ویتنام میں روسی صدر ولادی میر پوتین اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اتفاق کر چکے ہیں۔