.

حوثی جنگجو اپنی قبر کے ساتھ زندہ ہو کر کیسے بیٹھ گیا؟

حوثی ملیشیا نے ضامر میں کس کو اپنے جنگجو کی جگہ قبر میں اتار دیا، لواحقین بھی لاعلم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں عرب اتحاد اور سرکاری فوج کی کارروائیوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران میں حوثی باغیوں کی اتنی زیادہ تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں کہ انھیں خود بھی پتا نہیں چل رہا ہے کہ کون سا جنگجو لڑائی میں کام آ گیا ہے اور کون سا کس محاذ پر لڑرہا ہے۔ایسے ہی ایک حوثی جنگجو کی تصویر یمنی کارکنان نے سوشل میڈیا پر جاری کی ہے۔وہ اپنی ہی قبر کے سرہانے زندہ بیٹھا ہے مگر اس کی قبر پر اس کے نام کی تختی لگی نظر آرہی ہے۔

حوثیوں کے مطابق تو یہ شخص مبینہ طور پر ہلاک ہوگیا تھا ۔ حوثی ملیشیا نے اس کی موت کا اعلان کیا تھا اور یمن کے وسطی صوبے ضامر میں اپنے ہلاک شدگان کے ایک قبرستان میں اس کو دفن بھی کردیا تھا۔

سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک تصویر میں حوثی جنگجو محمد حسین صالح ایک قبر کے ساتھ بیٹھا ہے ۔اس پر اس کی تصویر لگی ہوئی ہے اور وہ اپنی اس قبر اور دوسری قبور کی تصاویر بنا رہا ہے اور مُنھ میں خط کا پتا چبا رہا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق یہ ’’مردہ‘‘ بدست زندہ حوثی جنگجو تعز کے محاذ سے حوثی ملیشیا کو داغ مفارقت دے کر بھاگ آیا تھا۔میدان جنگ سے اس طرح بھاگ آنے والے جو جنگجو حوثیوں کے ہاتھ نہ آئیں اور گرفتار نہ ہوسکیں تو انھیں مردہ سمجھ لیا جاتا ہے۔

اس کے بعد حوثی ملیشیا ایسے جنگجوؤں کی موت کا اعلان کردیتی ہے اور ان کے آبائی دیہات یا قصبوں میں ان کی تجہیز وتدفین کردی جاتی ہے۔ان ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان مہلوک جنگجوؤں کے لواحقین کو ان کا آخری دیدار نہیں کرایا جاتا جس سے یہ پتا نہیں چلتا کہ کون مرا ہے اور کس کو قبر میں اتارا جارہا ہے ۔ البتہ قبر پر اس کے نام کا کتبہ لگا دیا جاتا ہے، جس کی موت کا حوثی ملیشیا اعلان کرتی ہے اور اس کے خاندان کو بھی یہ بتا دیا جاتا ہے کہ مرنے والا آپ ہی کا پیارا تھا ۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ میدان جنگ سے فرار ہوجانے والے کسی جنگجو کو مردہ قرار دے دیا گیا اور اس کی تدفین بھی کردی گئی مگر وہ بعد میں کہیں سے زندہ برآمد ہوگیا ۔اس سے یہ بھی پتا چل گیا ہے کہ اس کی جگہ کسی اور کو حوثیوں نے قبر میں اتارا تھا۔