.

شاہ عبدالعزیز تمغے کے حصول کے لیے سعودی خاتون نے اپنے شوہر سے کیا کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی الشملی گورنری سےتعلق رکھنے والی ایک خاتون نے اپنے بیمار شوہر کو مرض سے نجات دلانے کے لیے ایک ایسا قدم اٹھایا جس پر اس خاتون کو مملکت کے تیسرے اعلیٰ ترین شاہ عبدالعزیز تمغے کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے انسانی جذبے سے بھرپور اس قابل تحسین اقدام پر روشنی ڈالی ہےاور بتایا ہے کہ حائل علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے شوہر کو بیماری کی تکلیف سے نجات دلانے کے لیے اپنا نصف جگر شوہر کوعطیہ کردیا۔

سلمیٰ نامی خاتون کے انسانی جذبے سے بھرپور اقدام پر اسے ریاست بھر میں سرکاری اور قومی سطح پر خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے سلمیٰ کو اپنا جگر اپنے شوہر کو عطیہ کرنے کے بعد شاہ عبدالعزیز ایوارڈ سے نوازا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے مریض شہری کے والد نےکہا کہ ان کی سلمیٰ نے انسانی بھلائی کا ناقابل بیان کام کیا ہے۔ یہ انہی کی تربیت کا نتیجہ ہے کہ وہ نیکی اوربھلائی کے مفہوم کی گہرائی سے واقف ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سلمیٰ کے شوہر سات سال سے جگر کے مرض کا شکار تھے۔ مسلسل بیماری اور تکلیف کو دیکھتے ہوئے سلمیٰ نے اپنےجگر کا ایک حصہ شوہر کوعطیہ کرنےکا اعلان کیا۔ ایسا کرنا بہت مشکل ہے مگر سلمیٰ نے ایسا کر دکھایا۔

والد خلف بن لافی الغنزی کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے ان کی بیٹی کے لیے تمغہ ہم سب کے لیے باعث فخر ہے۔ ایک اچھی حکومت کی طرف سے اپنےشہریوں کے لیے اسی طرح کے اقدامات کیے جاتے ہیں، ہراچھی حکومت اپنے شہریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اسی طرح‌کرتی ہے۔