.

سرزمین ’الباحہ‘ میں شجر زیتون کی واپسی کیسے ہوئی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے الباحہ میں قدرتی حسن اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے شجر کاری مہم کےدوران زیتون کے پودوں کی شجر کاری کا آغاز کیا گیا ہے۔ زیتون کا پودا اپنی طویل عمر کے ساتھ ساتھ مملکت کے لیےبے بہا اقتصادی اور ماحولیاتی فواید کا بھی حامل ہے۔ اس کے علاوہ شجر زیتون کو تہذیبوں کی علامت، استقامت اور امن کا پودا بھی کہا جاتا ہے۔

مملکت کے جنوب مغرب میں واقع سرزمین الباحہ میں زیتوں کے پودوں کی کاشت زیتون کے پھل جمع کرنے کے روایتی میلوں ٹھیلوں کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ اس کے نتیجے میں زیتون کا تیل حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے زرعی اور اقتصادی فواید حاصل کیے جا سکیں گے۔

خیال رہے کہ الباحہ کے علاقوں میں زیتون کے پودے کئی سال سے موجود رہے ہیں تاہم انفرادی سطح پر اس کی کاشت کا تجربہ کم ہونے کے باعث اس کی کاشت میں کوئی مثالی پیش رفت نہیں ہوئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حالیہ ایام میں الباحہ میں شجرکاری مُہم کے دوران کاشت کاروں کے ہاں زیتون کےپودوں کے حصول میں غیرمعمولی دلچسپی دیکھی گئی۔ اس موقع پر الباحہ گورنری کی جانب سے کاشت کاروں کو زیتون کی کاشت کے لیے بہتر مہارات فراہم کرنے کے لیے انہیں سائنسی طریقوں سے بھی روشناس کیا جا رہا ہے تاکہ خطے اس قیمتی سوغات کو زیادہ سے زیادہ پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا جا سکے۔

الباحہ زرعی یونیورسٹی میں زیتون کے ریسرچ سینٹر کے استاد پروفیسر الشیخ سعید بن علی العنقری نے کہا کہ دنیا بھر میں زیتون کے شعبے پر تحقیق کے لیے 19 ہزار مراکز قائم ہیں جن میں زیتون کے پودوں کے مختلف اقسام کی کاشت اور اس کی فصلوں کو بہتر بنانے کے لیے سائنسی بنیادوں پرکام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الباحہ زیتون ریسرچ سینٹر نے زیتون کے پیوند کاری اور کاشت کاری کے حوالے سے انگریزی میں لکھی تین کتابوں کا عربی زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ ملائیشیا کی کولالمپور میں قائم پوٹرا زرعی یونیورسٹی کی طرف سے بھی جدید کاشت کاری کے طریقوں سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طورپر جدید طریقوں کے مطابق زیتون کے40 ہزار پودے لگائے گئے ہیں۔