.

طائف کا گلاب اور بادشاہوں کا عطر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شہر طائف کا گلاب کا پھول مقامی شعراء کے قصیدوں میں جمال کی علامت بن چکا ہے اور مملکت کے بڑے شعراء نے اپنے اشعار میں اس کا ذکر کیا ہے۔

مذکورہ قصیدوں میں سعودیوں کے اس نوعیت کے گلابوں سے عشق کو پیش کیا گیا ہے۔ خوشبوؤں کے ماہرین اس سے تیار کردہ عطر کو دنیا بھر میں مہنگا ترین شمار کرتے ہیں۔ یہ بلا فصل بادشاہوں اور شہزادوں کا عطر ہوتا ہے۔

اس گلاب کا نام سعودی عرب کے شہر طائف سے موسوم ہے جو اس کی زراعت کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔

طائف کے گلاب کا عطر دماغ کو متحرّک کرنے والا شمار ہوتا ہے۔ یہ انسان کو مسرت کا احساس دلانے والے ہارمون کے زیادہ اخراج میں مدد گار ثابت ہوتا ہے جس کے نتیجے میں راحت اور سکون کا احساس ہوتا ہے۔ یہ توانائی بھر دینے اور چُستی کو تازہ دم کر دینے کا کام کرتا ہے۔ اسی واسطے پُر تعیش سیاحتی مقامات اور ہوٹلز اس کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کی مشہور ترین اقسام الفاتح اور القانی ہیں۔

طائف کے گلاب کا عرق جلد کو نہ صرف ٹھنڈک کا احساس دیتا ہے بلکہ یہ کئی وٹامنز سے بھرپور ہونے کے پیش نظر دانوں ، کیل اور مہاسوں کے علاج کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

اس کی بہترین مہک کے سبب یہ اعلی ریستورانوں میں پکوانوں میں بھی شامل کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ گلاب کے پھولوں کو توڑنے کا سیزن مارچ کے اواخر اور اپریل کے اوائل سے شروع ہو کر 30 سے 45 روز تک جاری رہتا ہے۔

طائف سکریٹریٹ نے رواں برس گلاب کے پھولوں کے میلے میں اپنی مختلف سرگرمیوں کے ذریعے ہزاروں افراد کو متوجہ کیا۔ ان سرگرمیوں میں پھولوں اور گلابوں کا سب سے بڑا قالین بھی شامل تھا۔ یہ قالین پھولوں اور گلابوں کے تخمی پودوں سے تیار کیا گیا۔ قالین کے بیچ پانی کا خوب صورت فوّارہ نصب کیا گیا۔ اس کے علاوہ 350 مربع میٹر کے رقبے پر ایک گھر بھی قائم کیا گیا۔ اس کے اندر خوشبو دار پودوں ، مختلف بیلوں اور کیکٹس کو نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔

مذکورہ میلے کی میڈیا کمیٹی کے سربراہ محمد سعید الزہرانی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ طائف ضلعے میں گلاب کی پیداوار کے لیے فارمز کی تعداد تقریبا 860 ہو گئی ہے۔ اس کی سالانہ پیداوار 50 کروڑ پھولوں کے قریب ہے۔ طائف کے گلاب کے حوالے سے کام کرنے والے کارخانوں کی تعداد 36 ہے۔