.

بن لادن نے اہل تشیع کے رزمیہ قصیدے اپنے پاس کیوں رکھے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ کے بانی سربراہ اسامہ بن لادن اور ان کی تنظیم کےسرکردہ لیڈروں کے ایران اور اہل تشیع کے ساتھ مراسم میڈیا میں اکثر زیربحث آتے ہیں اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا سنی عقیدہ رکھنے کے باوجود بن لادن کے اہل تشیع کے لیے نرم گوشہ کیوں رکھتے تھے؟

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بحرین کے مشہور شیعہ قصیدہ گو حسین الاکروف کی جانب سے لکھے گئے عربی قصیدے’یا امیری‘ اور ’یا امیرالمومنین‘ سمیت ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے مبینہ ٹھکانے سے ملنے والی دیگر دستاویزات میں شامل تھے۔ یہ جہادی نغمے اور رزمیہ شیعہ قصائد ٹیپ ریکارڈنگ میں محفوظ تھے اور بن لادن انہیں اپنے قیام کے دوران سنا کرتے تھے۔

بہ ظاہر ایسا لگتا ہے کہ بن لادن کا بنیاد پرست تنظیموں اور ان کے فلسفے کے حوالے سے نرم گوشہ رکھنا یا میدان جنگ میں اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کے ملائیت پر مبنی نظام سے استفادہ کرنا تھا۔

شیعہ اور سنی کے درمیان صحوی ہم آہنگی کی کوشش

سنہ 1980ء کےعشرے کےدوران شیعہ صحوی اور سنی صحوی دو الگ الگ کناروں پر بہنے والے دھارے تھے مگر اسی عرصے کےدوران ان دونوں میں قربت اور ملاپ کی کوشش کی گئی۔ گوکہ اہل تشیع کے ہاں اہل بیت سے محبت کے اظہار پر مبنی قصائد بہت پرانے ہیں مگر ایران میں ولایت فقیہ کےانقلاب کے بعد اسلامی انقلابی نغمے، کربلا سے متعلق رزمیہ قصیدے اور نظمیں اور اہل تشیع کےمخصوص فلسفہ فکر کے ترجمان نغمے زیادہ تیزی کے ساتھ پھیلنے لگے۔

سنہ 1990ء کے عشرے اور اس سے چند سال پہلے اہل تشیع کےہاں ’الروادید‘ کی اصطلاح کافی مشہور ہوئی۔ یہ ان قصیدوں کے گانے والوں کے الفاظ پرمشتمل تھا۔ اسے صحوی اخوانی حلقوں نے قبول کیا جس کے بعد یہ آگے چلتے ہوئے دائیں بازو کے شدت پسند اور جہادی حلقوں کی پسندیدہ نظمیں بن گئیں۔

اسلام پسندوں نے کربلا سے متعلق تعزیزتی مجالس میں ایک پیغام کے طور پر ان رزمیہ قصاید کو فروغ دینے کی کوشش کی۔

حتیٰ کہ بعض لوگوں نےکربلا اور امام بارگاہوں سے متعلق اور منظوم مواد کو اپنے تحقیقی مقالوں کا موضوع بنایا۔ سلمان العودہ نے ’الغربہ والغرباء‘ کے عنوان سے ایم اے کا مقالہ تحریر کیا۔ اس میں انہوں نے حسن البنا اور سید قطب کے واقعات کو شامل کیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھہ کہ مسلح دینی فکر کے فروغ میں ان کا اہم کردار تھا۔

اخوان المسلمون سے وابستہ لوگ بھی عراق اور بحرین کے روادید، رزمیہ نظموں اور قصاید کو پسند کرنے لگے۔ ان میں خاص طور پر حسین الاکروف اور باسم الکربلائی کی نظمیں زیادہ مشہور ہیں۔ ان میں سے ایک میں امام حسین کی شہادت کو بیان کرتا ہے تو دوسرا بوسنیہ اور صحوہ پر روتا ہے یہاں تک کہ یہ سفر آگے بڑھتے ہوئے شیعہ اور سنی صحوہ کی قربت کی شکل اختیارکرتا ہے۔