"سعودیوں کی غیر ملکی بیگمات اب شہریت کے لئے درخواست دے سکتی ہیں"

شہریت کے لئے درخواستوں کی وصولی کا عمل چار برس سے معطل تھا: محکمہ شہری امور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی محکمہ شہری امور نے مملکت کے طول وعرض میں سعودی مرد شہریوں کی غیر ملکی بیگمات اور بیواوں کی جانب سے مملکت کی شہریت کے لئے درخواستیں وصول کرنے کا کام چار برس کے تعطل کے بعد دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ چھ رکنی کمیٹی ان درخواستوں کا جائزہ لے گی۔

معاصر عزیز "عکاظ" اور "سعودی گزٹ" نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ درخواست پر غور کے لئے اس کا 17 پوائنٹس حاصل کرنا لازمی ہے۔ پوائنٹس کا تعین جائے پیدائش، تعلیمی قابلیت اور مملکت میں قیام کی مدت کی روشنی میں کیا جائے گا۔

شہریت دینے سے متعلق نظام کے آرٹیکل 16 میں سعودی مرد شہریوں کی غیر ملکی بیگمات اور بیواوں کو مملکت کی شہریت دینے سے متعلق شرائط بیان کرتا ہے۔

محکمہ شہری امور نے بیرون ملک ملازمت، تعلیم اور علاج کی غرض سے مقیم سعودی شہریوں کے لئے نئی سروس کا اعلان کیا ہے جسے بروئے کار لا کر شہری اپنے قومی شناختی کارڈز کی تجدید کروا سکتے ہیں۔

تاہم بیرون ملک میں مقیم اس سہولت سے استفادہ کرنے والے سعودی شہریوں کو چند شرائط پوری کرنا ہو گی۔

بیرون ملک مقیم سعودی شہری شناختی کارڈ کی تجدید کے لئے مطلوبہ فارم پر کریں گے۔ ان کی تصاویر اور فنگر پرنٹس محکمہ شہری امور کے کمپیوٹر سسٹم میں موجود ہونا چاہیں۔ ان کی درخواست محکمہ شہری امور لانے والے فرد کے پاس مختار نامہ خاص ہونا لازمی ہے۔ محکمہ شہری امور کی طے کردہ شرائط میں اس سہولت سے فائدہ اٹھانے والوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ جب بھی مملکت لوٹیں تو ایک مرتبہ محکمہ شہری امور کے دفتر ضرور آئیں۔

سعودی عرب کے وزیر عدل اور سپریم جوڈیشیل کونسل کے صدر ولید الصمعانی نے مملکت کی تمام عدالتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ طلاق یافتہ سعودی خواتین کو بچوں کی تحویل کا حق فوری طور پر دے دیں لیکن اس کی ایک شرط یہ ہے کہ ان کا اپنے سابق خاوند سے کوئی تنازع نہیں ہونا چاہیے۔

اس حکم کے تحت اب سعودی ماؤں کو اپنے بچوں کی شہری خدمات اور مالی فوائد سے استفادے کا حق حاصل ہو جائے گا اور اس سلسلے میں انھیں کسی قانونی چارہ جوئی کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں