.

جانیے 7 اقدامات جو آپ کے لیے دائمی مسرّت کی راہ کھول دیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خوشی یا مسرّت درحقیقت رضا، ذہنی سلامتی اور حالات و واقعات کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کا نام ہے۔

مسرّت کے عالمی دن پر انسانی رویّے سے متعلق امور کی مصری خاتون ماہر دالیا نبیل مطر نے مسرّت کے حصول کے لیے 7 بنیادی اقدامات کا انکشاف کیا ہے۔

دالیا نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مسرّت کی اہم ترین وجوہات میں دباؤ اور منفی توانائی پر غالب آنا اور اس کے بارے میں سوچ بچار چھوڑ دینا شامل ہے۔ یہ عمل تربیت کے ذریعے بتدریج یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ انسان کو ہمیشہ اپنی زندگی کے مثبت امور پر توجہ مرکوز رکھنا چاہیے۔ وہ زندگی میں کسی خوش گوار واقعے کے بارے میں سوچے یا کوئی ایسا کام جو اس نے انجام دیا ہو اور اس کو سراہا گیا ہو۔ اس کے علاوہ انسان کو اللہ رب العزت کی ان نعمتوں کو سوچنا چاہیے جو پروردگار کی جانب سے اُس پر عنایت ہوئی ہیں۔

دالیا کا کہنا ہے کہ "زندگی کے حالات کی مثال اُن سڑکوں کی طرح ہے جن پر ہم چلتے ہیں۔ جب ہمارے سامنے کوئی اسپیڈ بریکرآتا ہے تو ہم فوری طور پر گاڑی کی رفتار آہستہ کر لیتے ہیں۔ یہ ہی کچھ ہمیں اپنی زندگی میں بھی کرنا چاہیے۔ ہم پر لازم ہے زندگی کے دباؤ سے خود کو آزاد کرائیں اور اس میں درپیش اسپیڈ بریکروں اور بحرانات کا سکون کے ساتھ سامنا کریں۔ ہمارے ارد گرد مسرّت کے بہت سے عوامل اور اسباب موجود ہیں ، ہم پر لازم ہے کہ انہیں تلاش کریں اور ان پر توجہ مرکوز کریں"۔

مصری خاتون ماہر کے مطابق مسکراہٹ مسرّت کے اسباب میں سے ہے۔ یہ انسان کو اور اس کے اطراف موجود افراد کو مثبت توانائی فراہم کرتی ہے اور تعلقات میں تناؤ اور اضافی بوجھ کو کم کرتی ہے۔ دوسروں کی مدد اور ان کا بوجھ ہلکا کرنا بھی مسرّت کے اسباب میں سے ہے۔ انسانی عقل ہر وقت سوچ بچار میں مصروف رہتی ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگیوں میں باعث مسرّت اور مثبت چیزوں کے بارے میں ہی سوچا کریں تا کہ ہمارا ذہن دباؤ سے دور رہے۔

دالیا کا کہنا ہے کہ مسرّت کو یقینی بنانے والے عوامل میں اللہ کا قرب سرِفہرست ہے۔ اس طرح انسان کو ایک بڑی روحانی طاقت حاصل ہوتی ہے جو اسے زندگی کے دباؤ اور بحرانات کا سامنا کرنے میں مدد کرتی ہے۔ دوسری اہم ترین بات یہ کہ انسان صرف اپنی فکر کرے۔ اسے پہلے اپنے بارے میں سوچنا چاہیے نہ کہ دوسروں کے بارے میں خواہ اس کی اولاد ہی کیوں نہ ہو۔ یہ کوئی انانیت نہیں کیوں کہ اگر انسان مسرور اور مثبت سوچ کا حامل ہو گا تب ہی معاشرے میں دوسرے لوگوں کے بیچ مسرّت پھیلا سکے گا جن میں اس کی اولاد سرفہرست ہے۔

مسرّت کے حصول کے لیے 7 اقدامات :

1۔ اللہ کی رضا پر راضی رہنا اور اس کے قریب ہونا۔ انسان یہ سوچے کہ زندگی ایک سفر ہے جس کو ہمیں بنا نقصان اٹھائے سلامتی کے ساتھ اختتام تک پہنچانے پر توجہ دینا ہے۔

2۔ اس بات پر قائل ہونا کہ انسان کو اس دنیا میں بندگی اور اپنا خیال رکھنے کے لیے تخلیق کیا گیا۔ لہذا ہمیں مسائل اور بحرانات کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے۔ اگر سوچیں بھی تو یہ سوچ دیگر افراد کے تعاون سے ان کے حل تلاش کرنے کے لیے ہو۔ مثلا ہمیں حل کے بغیر معاشی مسائل اور زندگی میں درپیش دباؤ کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ حل کی بات کرنے سے مثبت توانائی اور امید پیدا ہوتی ہے۔

3۔ زندگی میں منفی سوچ، درد ناک یادوں اور افسوس ناک واقعات سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے یکسوئی اور اپنی تربیت پر توجہ مرکوز کریں۔ مذکورہ امور مثبت توانائی کا خاتمہ کر کے بالآخر ڈپریشن اور نا امیدی کو جنم دیتے ہیں۔

4۔ مسرّت کو برباد کرنے والے 4 امور سے نجات حاصل کریں۔ تشویش اور تناؤ، دوسروں کے ساتھ موازنہ، اپنے اور دوسروں کے کی ملامت اور چوتھی چیز توقعات ہیں۔ جی ہاں توقعات مثبت ہوں یا منفی بالآخر مسرّت کا گلا گھونٹ دیتی ہیں۔ مثلا کوئی شخص اپنے کسی دوست یا عزیز سے کسی قیمتی تحفے کی توقع کرے اور اگر تحفہ اس کی توقعات سے کم قیمتی ہوا تو اس شخص کو محرومی کا احساس ہو گا۔ اگرچہ قطعی طور پر نہ بھی ہو تو بھی دھچکا پہنچے گا اور دونوں دوستوں کے بیچ تعلقات متاثر ہوں گے۔

5۔ ہم پر دوسروں کی مدد کرنا لازم ہے بنا کسی احسان اور بنا کسی ایذاء کے۔ دوسروں کے لیے مسرّت کا ذریعہ بننا یقینا انسان کو خود بھی مسرور کرتا ہے تاہم اہم بات یہ ہے کہ یہ ہماری اپنی مسرّت کے کھاتے میں نہ ہو۔

6۔ ہمیں چاہیے کہ زندگی میں اپنے اہداف اور مقاصد کا تعین کریں اور ان اہداف کے حصول کے لیے اپنے اقدامات کا بھی تعین کریں۔

7۔ دائمی مسرّت تک پہنچنے کے لیے اہداف کو پورا کرنا اور ان پر کام کرنا۔ کام میں کامیابی مسرت کا باعث ہے۔ گھر اور خاندان میں کامیابی بھی مسرت کو یقینی بناتی ہے۔ زندگی کے تمام امور میں کامیابی دائمی مسرت کا سبب ہے۔

مصری خاتون ماہر دالیا نبیل مطر کا کہنا ہے کہ "متحدہ عرب امارات میں 'وزیرِ مسرّت' کا تقرر قابلِ تقلید مثال ہے۔ ہماری عرب دنیا کو تمام تر بحرانات ، جنگوں اور تباہی کے بیچ مسرّت کی ضرورت ہے اور ایسے لوگوں کی بھی جو اس مسرّت کو یقینی بنا سکیں۔