.

حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی اور یکم اپریل کے بیچ تعلق کا مفروضہ ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپ کے رہنے والے ہر سال یکم اپریل کو جھوٹ اور مذاق پر مبنی مختلف نوعیت کے افعال کے ذریعے "اپریل فُول" مناتے ہیں۔ اس روز ان افعال اور کارروائیوں کا نشانہ بننے والوں کو "اپریل فُول" کا نام دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس موقع کو منانے کے لیے ذرائع ابلاغ ، اخبارات اور رسائل بھی شریک ہو جاتے ہیں اور کوئی جھوٹی خبر یا بے بنیاد رپورٹ نشر اور شائع کر دی جاتی ہے۔

اگرچہ انیس ویں صدی سے اپریل فوُل ایک عوامی ایونٹ بن چکا ہے تاہم یہ کبھی بھی دنیا کے کسی ملک میں سرکاری طور پر نہیں منایا گیا۔ بعض مرتبہ انتہائی تکلیف دہ ہوجانے کے باوجود بھی یہ محض موج مستیوں تک مربوط رہا۔

چودہویں صدی کا انگریز شاعر اور "The Canterbury Tales" جیسے مجموعے کا خالق جیوفرے چاسر وہ پہلا شخص تھا جس نے یکم اپریل کی تاریخ کو جھوٹ کے ساتھ نتھی کیا۔ اس طرح اندازہ ہوتا ہے کہ اپریل فُول کا تصور کتنا پرانا ہے۔

امریکی ہفت روزہ رسالے ہاربر کی بعض کہانیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر اس کا آغاز حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی کشتی کی کہانی کے ساتھ ہوتا ہے۔

اس سلسلے میں 13 مارچ 1769ء کو ایک برطانوی اخبار میں شائع ہونے والی کہانی میں ایسا قصّہ ملتا ہے جو مذکورہ دعوے کی تائید کرتا ہے۔ اس میں بتایا گیا کہ "حضرت نوح علیہ السلام نے کبوتر کو بھیجا تا کہ وہ کسی ایسے محفوظ مقام سے آگاہ کرے جہاں طوفان آنے کی صورت میں کشتی کو لنگر انداز کیا جا سکے۔ وہ کبوتر واپس آ گیا اور کہا کہ طوفان تو میرے پیچھے کھڑا ہے۔ اس پر بقیہ تمام جانور بھی محظوظ ہوئے۔ اتفاق کی بات ہے کہ وہ یکم اپریل کی تاریخ تھی"۔

سابقہ صدیوں کے دوران یورپ کے ادب یعنی نثر اور شاعری میں کسی نہ کسی صورت میں اپریل فُول کا ذکر آیا ہے۔ تاہم اس ایونٹ کے حوالے سے زیادہ بڑا تصور عیسوی تقویم کے سال کے آغاز کی تبدیلی سے متعلق ہے جب سولہویں صدی کے اواخر میں گریگوری سوم نے یکم جنوری کو سال کا پہلا دن مقرر کر دیا۔

یہ تبدیلی فرانس میں 1564ء میں جاری ایک سرکاری فرمان کے ذریعے عمل میں آئی۔ اس کے بعد سے آج تک یہ عرف چلا آ رہا ہے۔ اس سے قبل عام طور پر لوگ عیسوی تقویم کے سال کا آغاز 25 مارچ کو منایا کرتے تھے۔ اس حوالے سے بعض شہروں میں تو تقریبات کا سلسلہ ایک ہفتے یعنی یکم اپریل تک جاری رہتا تھا۔

بعض لوگوں کے نزدیک یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب یکم جنوری کو سال کا آغاز منانے والے اُن لوگوں کا مذاق اڑاتے جنہوں نے اس بات پر اپنا یقین جاری رکھا کہ نیا سال ابھی تک یکم اپریل کو شروع ہوتا ہے۔ ان لوگوں نے اپریل کے آغاز پر ہی سالِ نو کی تقریبات منانے پر اصرار جاری رکھا۔