.

قطری کمانڈو افسر نے داعش کے خودکش بمبار کی کارروائی پر کیسے فخر کا اظہار کیا تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کی وزارتِ داخلہ نے ستائیس شہریوں اور اداروں کے نام دہشت گردوں کی اپنی سرکاری فہرست میں شامل کر لیے ہیں ۔العربیہ نے یہ فہرست ملاحظہ کی ہے اور ان میں زیادہ تر نام قطری شہریوں ہی ہیں جو اس ملک کے قومی اداروں سے وابستہ رہے ہیں ۔

اس فہرست میں شامل محمد جابر سالم مشعاب کے نام کی جب تلاش کی گئی ہے تو یہ پتا چلا ہے کہ اس میں اس مکمل نام کے دو قطر ی شہری شامل ہیں ۔ایک قطر کے فوجی افسر جبر بن سالم المشعاب اور دوسرے ان کے بھائی محمد بن سالم المشعاب ہیں۔وہ قطر پٹرولیم کے ملازم ہیں ۔

ان کے ٹویٹر اور انسٹا گرام پر اکاؤنٹس کی مزید جانچ سے پتا چلا ہے کہ ان کے چچا محمد جابر سالم مشعاب کا نام بلیک لسٹ ہے۔ان تینوں کے ناموں میں ایک مشترک قدر یہ پائی گئی ہے کہ یہ تینوں داعش اور القاعدہ کی کسی نہ کسی طرح حمایت کرتے رہے ہیں۔

تاہم ان میں ایک معروف نام جس کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہونا چاہیے تھا لیکن وہ نہیں ہے اور یہ صاحب ہیں قطر کی ملٹری کمانڈو فورس کے لیفٹیننٹ جابر بن سالم ال مشعاب ۔ مسٹر جابر سوشل میڈیا پر سعودی نوجوانوں سے ابلاغ کرتے رہے ہیں ۔ان میں سمبتیک نام کا نوجوان بہ طور خاص قابل ذکر ہے۔اس نے بیرون ملک لڑنے کے لیے داعش میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن وہاں سے لوٹنے کے بعد خود کو سعودی حکام کے حوالے کردیا تھا اور جد ہ میں ایک فوجداری عدالت نے اس کو پانچ سال قید کی سزائی سنائی تھی اور رہائی کے بعد بیرون ملک جانے پر پابندی عاید کردی تھی۔

قطری لیفٹیننٹ نے 13 اگست 2013ء کو ٹویٹس میں اس سعودی نوجوان کو داعش میں شمولیت پر مبارک باد پیش کی تھی۔انھوں نے لکھا تھا:’’ اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے آپ کو جہاد اور سب سے اہم فریضے کے لیے منتخب کیا ہے ۔یہ اس دنیا اور اس کے بعد آنے والی دنیا میں آپ کے لیے ایک اعزاز کی بات ہے‘‘۔

ایک اور ٹویٹ میں اس قطری لیفٹیننٹ نے اپنے خاندان کے ایک رکن عبد المحسن ابن حزام النديلہ المری کو ان کی موت پر خراجِ عقیدت پیش کیا تھا۔ وہ داعش کے ساتھ مل کر لڑتے ہوئے مارے گئے تھے۔جابر نے ٹویٹر پر لکھا تھا:’’ اچھی خبر، جہادیوں نے آدھی فوج پر کنٹرول حاصل کر لیا ۔ وہ اب دمشق کے وسط میں شارع بغداد پر ہیں‘‘ ۔

قطر کی داخلی سکیورٹی فورسز کے ایک افسر حجاج العجمی شام میں بروئے کار ان انتہا پسند گروپوں کی حمایت کرتے رہے ہیں ، جن کے نام دہشت گردوں کی بین الاقوامی فہرست کے علاوہ دہشت گرد ی مخالف گروپ چار ( سعودی عرب ، مصر ، بحرین اور متحدہ عرب امارات) کی جاری کردہ فہرست میں بھی شامل ہیں ۔

داعش کے ایک رکن سالم الشاملح نے اپنے کزن قطری افسر راشد ال مشعاب کے ساتھ ٹویٹر پر ایک گفتگو میں سعودی عرب اور بحرین پر دہشت گردی کے حملوں کی دھمکی دی تھی۔ اس وقت وہ شام میں موجود تھے۔

داعش کے قطری ارکان

العربیہ کو قطر کے وزیر دفاع کے ایک مشیر علی بن سعید آل حول اور ایک قطری شہری علی بن صالح آل كحلہ کی تصاویر بھی ملی ہیں ۔علی کو امریکا میں 11 ستمبر 2001ء کو دہشت گردی کے حملوں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور 2003ء میں دہشت گردی کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر 15 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔اس کی تصویر 2015ء میں جیل سے رہائی کے بعد بنائی گئی تھی۔

داعش کے قطری ارکان میں سب سے معروف نام عبدالعزیز القطری کا ہے۔اس کا اصل نام محمد یوسف عثمان ہے۔وہ اردنی نژاد فلسطینی ہے ۔اس نے افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جہاد میں حصہ لیا تھا۔اس کے بعد وہ عراق میں آ بسا تھا۔ وہ انصارالاسلام کے بانی ارکان میں سے ایک تھا۔ 2003ء میں اس نے ابو مصعب الزرقاوی کے ساتھ کام کا آغاز کیا تھا اور پھر وہ قطر میں آگیا تھا۔

القطری قطر میں دہشت گرد گروپوں کی مالی معاونت کے لیے کام کرتا رہا تھا۔2011ء میں وہ قطر سے شام چلا گیا تھا اور النصرۃ محاذ کی پیش رو تنظیم انصار الشام میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔بعد میں اس نے جند الاقصیٰ کےنام سے ایک تنظیم قائم کی تھی۔

ان کے علاوہ اس فہرست میں طارق الحرزی المعروف ابو عمر التونسی کا نام بھی شامل ہے۔ وہ 2003ء میں انتہا پسند گروپوں میں شمولیت کے لیے عراق گیا تھا۔وہ امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد کے 2015ء میں ایک فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔امریکا کے محکمہ خزانہ نے اس کو 2014ء میں عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا اور اس کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔

مشعاب
مشعاب