قطری عہدے داروں اور دہشت گردی کے مالی معاونین کے درمیان تعلق کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

العربیہ نے حال ہی میں قطر کے اعلیٰ عہدے داروں اور دہشت گردی کے مالی معاونین کے درمیان کھلے عام تعلقات کا انکشاف کیا ہے۔دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت میں ملوث ان افراد کے نام خود قطر کی اپنی جاری کردہ مشتبہ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہیں ۔

گذشتہ ہفتے العربیہ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ دہشت گردی کے لیے رقوم مہیا کرنے والے عبدالرحمان النعیمی قطر میں کسی خوف وخطر کے بغیر رہ رہے ہیں حالانکہ گذشتہ ماہ ہی انھیں قطر نے خود دہشت گرد قرار دیا تھا ۔انھوں نے 11 اپریل کو اپنے بیٹے عبداللہ النعیمی کی دھوم دھام سے شادی کی تھی۔

شادی کی تقریب میں قطری وزیراعظم عبداللہ آل ثانی اور دوسرے اعلیٰ حکومتی عہدے داروں نے بھی شرکت کی تھی۔قطری اخبار الرایہ نے عبدالرحمان النعیمی کو ان کے بیٹے کی شادی کی مبارک باد کے لیے اشتہار شائع کیا تھا۔شادی کی تقریب میں حکومتی شخصیات کے علاوہ حماس کے سابق سربراہ خالد مشعل اور عبداللہ السلیطی بھی شامل تھے۔موخر الذکر الرایہ کے لکھاری ہیں اور خود کو قطر کی تیل کی صنعت کے مشیر بتاتے ہیں۔ وہ قطر ی اخبار الشرق کے ماضی میں مدیر اعلیٰ رہ چکے ہیں ۔

النعیمی کا نام دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والے افراد کی قطری اور بین الاقوامی سطح پر جاری کردہ فہرستوں میں شامل ہے۔ان کی قطری وزیراعظم اور دوسرے عہدے داروں کے ساتھ شادی کے موقع پر ایک تصویر بھی منظرعام پر آئی ہے۔اس تصویر میں 11 اپریل کو قطری وزیراعظم عبداللہ آل ثانی دلھا عبداللہ النعیمی کو مبارک باد دینے کے لیے بوسہ دے رہے ہیں۔تصویر میں مطلوب دہشت گرد النعیمی ان کے پیچھے نظر آر ہے ہیں۔

النعیمی کو امریکی حکومت نے دسمبر 2013ء میں دہشت گرد قرار دے دیا تھا اور اقوام متحدہ نے ستمبر 2014ء میں انھیں خطے میں دہشت گرد تنظیموں کو مالی وسائل مہیا کرنے کے الزام میں دہشت گرد قرار دیا تھا۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق 64 سالہ النعیمی نے عراق میں القاعدہ کو کروڑوں ڈالرز دیے تھے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے تب کہا تھا کہ عبدالرحمان النعیمی نے شام میں اپنے نمائندوں کے ذریعے چھے لاکھ ڈالرز القاعدہ کو منتقل کیے تھے۔وہ مزید پچاس ہزار ڈالرز بھی منتقل کرنا چاہتے تھے۔

امریکی انٹیلی جنس نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ النعیمی نے 2001ء میں عراق میں القاعدہ کو ہر ماہ ایک سال کے لیے بیس ، بیس لاکھ ڈالرز منتقل کیے تھے۔امریکی محکمہ خزانہ کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے صومالیہ میں سخت گیر جنگجو گروپ الشباب کو بھی رقوم مہیا کی تھیں اور اس گروپ کو ڈھائی لاکھ ڈالرز منتقل کیے تھے۔

قطر کے سینیر عہدے دار ماضی میں امریکی حکومت اور میڈیا کو عبدالرحمان النعیمی کے اتاپتا کے بارے میں کچھ بتانے سے گریزاں رہے ہیں۔ جنوری میں نیویارک ٹائمز کے خصوصی نامہ نگار ڈیکلان واش نے ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ النعیمی کو دوحہ میں آزادی حاصل ہے مگر بعد میں وہ اپنی اس رپورٹ سے دستبردار ہوگئے تھے اور قطری حکام کے حوالے سے ایک تصحیح نامہ جاری کیا تھا۔

قطری حکام نے تب کہا تھا کہ انھیں النعیمی کے خلاف دہشت گردی کے کیس سے متعلق نئے شواہد دستیاب ہوئے ہیں۔انھیں گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔

لیکن گذشتہ بدھ کو عبدالرحمان النعیمی کی اپنے بیٹے کی شادی میں شرکت سے ان تمام رپورٹس کی تردید ہوجاتی ہے اور قطری عہدے داروں کے ان سے تعلقات کی نوعیت کا اس طرح پہلے کبھی کھل کر اظہار نہیں ہوا تھا۔

دوحہ میں امریکی سفارت خانے کی 2010ء کی ایک خفیہ مراسلت کے مطابق النعیمی کو سنہ 2000ءمیں قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ نے اپنی اہلیہ شیخہ موزہ بنت نصر کے بڑھتے ہوئے عوامی کردار پر تنقید کی پاداش میں گرفتار کر لیا تھا۔

اس سے چند سال قبل ہی انھیں قطر کی مشاورتی کونسل کو ایک کھلا خط لکھنے پر بھی گرفتار کیا گیا تھا۔انھوں نے اس خط میں ملک میں شراب کی فروخت پر تنقید کی تھی اور جامعہ قطر میں مخلوط تعلیم کو غیر اسلامی قرار دیا تھا۔ رہائی سے ایک سال کے بعد النعیمی کو جامعہ قطر میں ان کے عہدے پر ترقی دے دی گئی تھی۔اس کے بعد وہ قطر کی قومی فٹ بال ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے تھے۔

قطر نے مارچ میں دہشت گردوں کی ایک فہرست جاری کی تھی۔اس میں النعیمی سمیت گیارہ قطری شہریوں کے نام شامل تھے۔ان میں دس کے نام دہشت گردی مخالف گروپ چار کی جانب سے گذشتہ سال جاری کردہ دہشت گردوں کی فہرست میں بھی شامل تھے۔

قطری فہرست میں مبارک محمد بن سعد بن علی العلاجی کا نام بھی شامل تھا۔وہ القاعدہ کے لیے غیر سرکاری نیٹ ورک کے ذریعے رقوم اکٹھی کرتے رہے تھے۔اس فہرست کے اجرا کے دو ہفتے سے بھی کم عرصے کے بعد العلاجی نے دوحہ میراتھن میں حصہ لیا تھا اور اس شرکت پر انھوں نے ایک قطری عہدے دار سے تین ہزار قطری ریال بھی وصول کیے تھے۔

عبدالرحمان النعیمی قطری تنظیم عید چیرٹی کے بانی اور بورڈ کے رکن ہیں ۔اس کو دہشت گرد ی مخالف چار ممالک سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے گذشتہ سال دہشت گرد گروپوں کا مالی معاون قرار دے دیا تھا قطر سے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں