.

چٹانوں پر کندہ کاری، سعودیہ میں ہزاروں سال پرانے انسانی تہذیب کے ان منٹ نقوش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی سرزمین تاریخی اعتبار سے ہزاروں سال پرانی انسانی تہذیبوں کی امین ہے۔ مملکت کے 70 فی صد سے زاید رقبے پر انسانی تہذیبوں کے ان مٹ نقوش اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ہزاروں برس قبل بھی یہ سرزمین انسانی تہذیب وتمدن کا مرکز تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایک رپورٹ میں سعودی عرب کی قبل از تاریخ تاریخی یادگاروں پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں مختلف مقامات پر موجود چٹانوں پر کی گئی کندہ کاری سے اندازہ ہوتا ہے کہ گئے زمانوں میں تیار کردہ یہ فن پارے اس دور میں بنائے گئے جب ابھی انسان کتابت سے بھی آشنا نہیں تھا۔

سعودی عرب میں پائے جانے ایسے تاریخی مقامات میں مدینہ منورہ میں ’الحناکیہ‘، الشویمس اور اور حائل کے علاقے میں ’وجبہ‘ جیسے مقامات میں چٹانوں پر ہزاروں سال پرانی کندہ کاری موجود ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت ’یونیسکو‘ نے ان مقامات کی تاریخمی اہمیت کے پیش نظر انہیں عالمی انسانی تاریخی ورثہ قرار دیا ہے۔

چونکہ جزیرۃ العرب نہ صرف انسانی تہذیبوں کا پرانا مسکن رہا ہے بلکہ آسمانی مذہب اور پیغمبروں کی بھی سرزمین ہے۔ قرآن پاک اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی جزیرۃ العرب میں رونما ہونے والے کئی تاریخی واقعات کی طرف اشارہ موجود ہے۔ جزیرۃ العرب میں پہلی معلوم انسانی ھجرت کے بارے میں خیال ہے کہ وہ 17 ہزار سال پہلے ہوئی۔ خشک سالی کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد اطراف سے ھجرت کرکے جزیرہ نما عرب میں آباد ہوئی۔

اس کے بعد کئی دوسری تہذیبوں نے جزیرۃ العرب کو اپنا مسکن بنایا اور پتھروں پر اپنی یادگاروں کی شکل میں رہتی دنیا تک اپنی نشانیاں چھوڑیں۔ آج ہزاروں سال کے سفر کے بعد بھی ہم ان یادگاروں کو دیکھ اور محسوس کرسکتے ہیں۔ ان تاریخی یادگاروں میں چٹانوں پر کندہ کاری، سکے، برتن، مقبرے، بند، دیواریں اور کئی دوسری چیزیں شامل ہیں۔

مورخین کا کہنا ہے کہ پتھر کے قدیم وسطی دور میں سب سے زیادہ انسانی ھجرت کا پتا جزیرۃ العرب سے ملتا ہے۔ حائل اور الجوف جیسی وادیاں قدیم دور کے لوگوں کی توجہ کا مرکز رہی ہیں۔ پانی اور سبزے کی موجودگی کے باعث یہاں بڑی تعداد میں لوگ آتے جاتے اور قیام کرتے رہے۔ انہی مقامات سے ’موستیریہ‘ دور کا انسانی استعمال کا سامان ملتا ہے۔

آج ان پرانی چیزوں کی عمر کے تعین کے لیے جدید ترین سائنسی طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ ان میں ’C14‘ کا تجزیاتی طریقہ جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جزیرۃ العرب میں انسانی تہذیب کی 2300 سال قبل انسانی تہذیب کی باقیات موجود ہیں۔

شاہ عبدالعزیز ریسرچ سینٹر کے زیراہتمام ’جزیرۃ العرب کلاسیکی مآخذ کی روشنی میں‘ کے عنوان سے ایک پروگرام گذشتہ برس مکمل کیا گیا۔ اس پروگرام کے تحت جزیرۃ العرب میں اغارقہ، رومن، یونانی اور دیگر اقوام کی یادگاروں کو اکھٹا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان میں 2500 سال پرانی یادگاریں بھی شامل ہیں جن میں کتابت کی یادگاریں بھی ہیں۔

سعودی عرب کی خاتون محقق سارہ بنت فالح الدوسری نے شاہ سعود یونیورسٹی میں ایک تجزیاتی تحقیقی مقالہ لکھا جسے پی ایچ ڈی کے مقالے کے طور پر منظور کیا گیا۔اس میں اس نے جزیرۃ العرب کے قدیم ادوار حتیٰ کہ 36 ہزار سال قبل کی تاریخ پر روشنی ڈالی ہے۔

اس کے علاوہ مقالے میں ان جھیلوں کا تذکرہ ہے جو چھ سے نو ہزار سال پرانی ہیں۔ ان کے اطراف میں موجود چٹانوں پر کندہ کاری بھی اتنی پرانی بتائی جاتی ہے۔ الحناکیہ، شمویمس اور جبۃ میں پائی جانے والے تقوش تاریخ بلاد شام، عراق اور دوسرے ممالک میں 13 ہزار سال پرانے ہیں۔