اسرائیل اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ ، کیوں ، کب ،کہاں اور کیسے کیا ہوسکتا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک مکمل جنگ کے بارے میں اب کسی اگر، مگر ، چونکہ چنانچہ وغیرہ کا سوال نہیں ہے۔ان دونوں ممالک کے درمیان پہلے ہی محاذ آرائی کا آغاز ہوچکا ہے اور حال ہی میں اسرائیل کے لڑاکا طیارے نے شام میں ایک فوجی اڈے پر بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں متعدد ایرانی فوجی افسر اور اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

دونوں ممالک میں اس طرح کی براہ راست محاذ آرائی کے اب تک دو دور ہوچکے ہیں۔پہلا اس وقت ہوا تھا جب 10 فروری کو ایران نے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے کی فضائی حدود میں ایک ڈرون بھیجا تھا مگر اس کو اسرائیلی فوج نے مار گرایا تھا۔دوسرا دور 9 اپریل کو ہوا تھا جب اسرائیلی طیارے نے شام میں طیفور کے فوجی اڈے پر بمباری کی تھی۔

بہت سے مبصرین کو توقع تھی کہ ایران اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا لیکن اس نے اب تک شام میں اپنے فوجیوں کی ہلاکت پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور اس خاموشی کو اس کی کمزور ی پر محمول کیا جاسکتا ہے۔اس سے اسرائیل کی اس پر مزید حملوں کے لیے حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے اور شاید دوسرے فریق بھی ایسا کرسکتے ہیں ۔

فی الوقت ایران کے بارے میں یہ یقین کیا جاتا ہے کہ وہ اسرائیل کو کوئی مناسب جواب دینے پر غور کررہا ہے لیکن ایران اور بین الاقوامی میڈیا میں سب سے اہم سوال یہ زیر بحث ہے کہ اس جوابی حملے یا ردعمل کا وقت کیا ہوگا اور یہ کہاں کیا جاسکتا ہے ؟

اسرائیل کے عسکری تجزیہ کاروں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ پہلے شام میں ایرانی اسلحے سے لدی گاڑیاں جس طرح لبنان میں شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے لیے بھیجی جارہی تھیں ،ان کا سلسلہ اب رک چکا ہے۔اب وہ اسلحے سے لدی گاڑیاں لبنانی سرحد عبور نہیں کررہی ہیں اور بدستور شام ہی میں ہیں ۔

اس سے اسرائیل اب یہ یقین کرنے لگ گیا ہے کہ یہ اسلحہ اب شام ہی میں ایران کی فوجی موجودگی کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور ایران تل ابیب کے حملے کا جواب شام کی سرزمین سے ہی دے گا۔

ایرانی حکام کے مطابق ان کا ملک محاذ آرائی کا تعیّن اپنے فریم ورک کے مطابق کرنا چاہتا ہے نہ کہ تل ابیب کے فریم ورک کے مطابق ۔

اسرائیلی فوج وزیراعظم نیتن یاہو کی ایران کے خلاف تنازع کو بڑھاوا دینے کی پالیسی کی حمایت کرتی ہے۔اگر ایران حزب اللہ کو میدان جنگ میں اتارنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ ملیشیا اپنے ایک لاکھ سے زیادہ راکٹوں کو اسرائیل کے خلاف استعمال کرسکتی ہے۔

لیکن تجزیہ کاروں کے بہ قول ا ب اسرائیل نے حزب اللہ کی فورسز کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ بہتر تیاری کررکھی ہے۔اس لیے لبنان کے میدان جنگ میں لڑائی کسی بھاری قیمت پر نہیں ہوگی ۔

امریکا اسرائیل کی کہاں تک حمایت کررہا ہے،اس کی عکاسی اسرائیلی اخبار ہارٹز کے ایک لکھاری نے حال ہی میں اپنی ایک تحریر میں کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’ کوئی یہ سوچ سکتا ہے کہ اگر امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ ( وزیر خارجہ ) مائیک پومپیو دوچار گھنٹے اور اسرائیل میں رُک جاتے تو وہ خود ہی ایک لڑاکا جیٹ کے کاک پٹ میں بیٹھ جاتے اور پانچ سات میزائل داغ دیتے ‘‘۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت سے ایران سے مسلح محاذ آرائی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اس کے بعد شام اور لبنان میں جاری تنازع اور لڑائی میں مزید شدت آجائے گی۔

اس دوران میں چند ایک واقعات پے در پے وقوع پذیر ہوئے ہیں ۔بعض کے نزدیک یہ ایک انوکھا حسن اتفاق ہی ہے۔جیسا کہ سطور بالا میں حوالہ دیا گیا ہے۔ شام میں طیفور کے فوجی اڈے پر فضائی حملہ کیا گیا۔حماہ میں ایک اور فوجی اڈے کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کے خفیہ جوہری پروگرام کے بارے میں انکشاف انگیز پریزینٹیشن دی اور بعض خفیہ فائلوں کا انکشاف کیا۔مراکش نے ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے۔اس کا الزام یہ تھا کہ ایران اس کے داخلی امور میں مداخلت کررہا ہے۔

حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل حسن نصر اللہ نے یکم مئی کو ایک تقریر میں کہا تھا ’’ شام میں گماشتوں کے خلاف جنگ اختتام پذیر ہونے کو ہے ۔اس کے بعد بہت جلد دوسری جنگ حقیقی دشمنوں کے خلاف شروع ہوگی‘‘ ۔ وہ دراصل کہنا یہ چاہ رہے تھے کہ شام میں امریکا کے حمایت یافتہ شامی حزب اختلاف کے مسلح گروپوں کے خلاف لڑائی کے خاتمے کے بعد اسرائیل اور امریکا کے خلاف جنگ ہوگی۔

ایران اگر لبنانی سرزمین سے اسرائیل کے خلاف کوئی فوجی کارروائی کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہےکہ وہ بیروت کو ایک مرتبہ پھر جون 2006ء کی تباہ کن جنگ کی طرح ایک اور جنگ میں کھینچ لے گا مگر اس کا حزب اللہ کو سیاسی اور فوجی اعتبار سے بھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

شام کا اسرائیل کے خلاف رد عمل سب سے زیادہ منطقی ہوسکتا ہے۔شام میں اس وقت ایران سے وابستہ ہزاروں جنگجو موجود ہیں ۔اس کے علاوہ روس بھی وہاں لڑاکا طیاروں اور زمینی دستوں کے ساتھ موجود ہے۔روس کی موجودگی کی وجہ سے اسرائیل شامی رجیم کے خلاف کشیدگی کو بڑھاوا دینے سے گریز کرے گا یا کم سے کم ان فوجی اڈوں پر حملے نہیں کرے گا جہاں روسی مشیر موجود ہیں ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں