سینیما فلموں کا لائسنس حاصل کرنے والی پہلی سعودی خاتون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں سینیما فلموں کی درآمد اور تقسیم کا لائسنس حاصل کرنے والی پہلی مقامی خاتون خلود عطار کا کہنا ہے کہ ان کے نزدیک مملکت میں فلمی صنعت کا مستقبل تابناک ہے اور یہ ہی وہ بنیادی وجہ ہے جس نے خلود کو مذکورہ لائسنس حاصل کرنے پر مجبور کر دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "میں نے چاہا کہ اس اہم سیکٹر میں میرا کردار بھی ہو۔ میری توجہ کا مرکز غیر ملکی فلمیں نہیں بلکہ سعودی فلمیں ہوں گی"۔

سعودی آرٹس کونسل کی رکن خلود کے مطابق لائسنس کے حصول میں انہیں مشکلات کا سامنا نہیں ہوا اور ہفتہ دس روز کے اندر تمام کارروائی مکمل ہو گئی۔

امریکی جریدے فوبز نے خلود عطار کو سعودی عرب کی متاثر کن شخصیات کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ خلود کے مطابق انہوں نے سب سے پہلے "بلال" نام کی فلم اور بعض دیگر سعودی مختصر فلموں کی تقسیم کے حقوق حاصل کیے ہیں۔

خلود کا کہنا ہے کہ سعودی معاشرہ ایسی کہانیوں سے بھرپور ہے جن کو تاریخی یا سماجی پہلو سے فلم کی صورت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

خلود کے مطابق فن کی دنیا سے ان کی دل چسپی نے اچانک جنم نہیں لیا بلکہ وہ گزشتہ 10 برسوں سے ڈیزائننگ سے متعلق ایک رسالہ نکال رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ایک دہائی کے اندر انہیں مملکت کے اندر گرافکس، سول انجینئرنگ اور فوٹوگرافی کے شعبوں میں جدت اور مہارت کے حامل بہت افراد نظر آئے جن کا کام سامنے نہیں آ سکا۔ خلود کے مطابق ماضی میں لوگ مواقع اور حکومتی سپورٹ نہ ہونے کو حجت بناتے تھے تاہم اب معاملہ مختلف ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں