.

مصری مبلغ کی ’’مرغی کھانے سے روحانیت میں اضافہ ہوگا‘‘ کے اشتہار پر معذرت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے ایک معروف مگر متنازع مبلغ عمرو خالد کی ایک پولٹری کمپنی کے مرغی کے گوشت کی تشہیر کے لیے اشتہار میں نموداری سے ایک نیا تنازع اٹھ کھڑا ہوا ہے اور سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کے بعد ان مبلغ صاحب کو معذرت کرنا پڑی ہے۔

عمرو خالد مصر کی ایک پولٹری کمپنی الوطنیہ کے اشتہار میں ایک خاتون کے ساتھ نمودار ہوئے تھے۔اس میں وہ پہلے رمضان المبار ک کے دوران میں اچھی صحت کے فوائد بتاتے ہیں۔اس کے بعد خانہ داری کی ماہر آسیہ عثما ن صحت مند غذا کے فوائد بتاتی ہیں اور بالخصوص مرغی کا گوشت کھانے کے بارے میں بتاتی ہیں ۔

پھر مصری مبلغ یوں گویا ہوتے ہیں:’’ کان، آنکھوں اور زبان سمیت جسم کے ہر ہر عضو کا روزہ ہوتا ہے۔روح اس وقت تک بہتر نہیں ہوسکتی جب تک آپ کا معدہ صحت مند حالت میں نہ ہو ،آسیہ کے تجویز کردہ کھانے آپ کو رات کے وقت جب آپ تراویح کی نماز ادا کررہے ہوں گے تو اللہ سے قربت کا ذریعہ بنیں گے‘‘۔

عمرو خالد کو اس بیان پر سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس کمپنی کو بھی مجبوراً اپنے فیس بُک صفحے سے اس ویڈیو کو حذف کرنا پڑا ہے۔البتہ اس نے مذکورہ اشتہار کو نہیں ہٹایا ہے ۔

مصری علامہ نے ہفتے کی شب اپنے فیس بُک صفحے پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے اور ا س میں انھوں نے اشتہا ر سے پیدا ہونے والی غلط فہمی کے ازالے کی کوشش کی ہے۔انھوں نے کہا : ’’ میرے الفاظ کا یہ مطلب اخذ کیا گیا ہے کہ جیسے میں مذہب کو ایک پراڈکٹ کے فروغ کے لیے استعمال کررہا ہوں ۔یہ بالکل غلط ہے اور ناقابل قبول ہے‘‘۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک مبلغ کی حیثیت سے گذشتہ بیس سال سے کام کررہے ہیں ۔وہ ایک انسان ہیں اور اس حیثیت میں انھوں نے کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں اور غلطیاں بھی کی ہیں ۔انھوں نے اپنے مداحوں اور حامیوں کا سوشل میڈیا پر حمایت پر شکریہ ادا کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ صرف اللہ ہی میری نیت کو بہتر جانتا ہے‘‘۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ ان مصری مبلغ صاحب نے اس طرح کا کوئی تنازع کھڑا کیا ہے۔وہ اس سے پہلے بھی اس طرح کے متنازع اور بے تکے بیانات جاری کرتے رہتے ہیں ۔ وہ سیٹلائٹ چینلز کے لیے ٹی وی کنکشن کی تنصیب سے متعلق ایک اشتہار میں بھی نمودار ہوئے تھے لیکن بعد میں انھوں نے اس اشتہار سے خود کو نکلوا لیا تھا۔

وہ ماضی میں یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ ان کا اخوان المسلمون سے تعلق رہا ہے اور انھوں نے قاہرہ میں ’’ میدان التحریر میں اللہ ‘‘ کو دیکھنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’ میں بہت زیادہ محنت کرتا ہوں لیکن صرف سوشل میڈیا ، فیس بُک اور ٹویٹر پر ہی محنت شاقہ سے کام لیتا ہوں ‘‘۔