.

اسلام نے علم فلکیات اور سائنسی سوچ کو کیسے پروان چڑھایا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلام کے آغاز سے علم فلکیات کی راہ ہموار ہوئی ،اس نے ستارہ شناسی کی حوصلہ شکنی کی اور اس کے نتیجے میں سائنسی سوچ پروان چڑھی تھی جس نے تمام تہذیبوں ہی کو متاثر کیا ہے۔

یہ باتیں دبئی رصدگاہ گروپ کے چیف ایگزیکٹو حسن الحریری نے العربیہ سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہیں ۔انھوں نے کہا کہ علم فلکیات نے صحرا میں عرب زندگی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ہمارے پاس آسمان ہے، زمین ہے اور سمندر ہے۔آسمان ہمیشہ اس تکون کا اہم حصہ رہاہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’’اسلام سے پہلے کے قدیم دور میں لوگ آسمان کی طرف اس کی خوب صورتی کی بنا پر دیکھتے تھے ،وہ اس کو دیکھ کر اپنے وقت کا تعیّن کرتے، کیلنڈر بناتے ،سمت کا تعیّن کرتے اور اس کی روشنی میں سفر کرتے تھے‘‘۔

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم بہ طور مسلمان سورج سے وقت کا تعیّن کرتے اور اس کے طلوع وغروب اور ڈھلنے کی بنیاد پر اپنی نمازیں ادا کرتے ہیں۔ ہم چاند کی رؤیت پر اپنے اسلامی مہینے کا تعین کرتے، روزہ وحج کا اہتمام کرتے اور عید کی خوشیاں مناتے ہیں ‘‘۔انھوں نے کہا کہ یہ نظام فلکی تو ہماری زندگی کا لازمی جزو ہے اور یہ کوئی اضافی چیز نہیں ہے۔

ثقافت اور تاریخ

حسن الحریری نے بتایا کہ مسلم تہذیبوں نے رصدگاہیں تعمیر کیں، فلکیات کے آلات بنائے،فلکیات کی لیبارٹریوں میں تبدیلیاں کیں اور انھیں از سرنو استوار کیا۔انھوں نے ستاروں کی نقل وحرکت کے مشاہدے کے لیے آلات بنائے۔

ان کے بہ قول :’’ اس طرح مسلمانوں نے سائنسی طریق کار میں شاندار اور دلچسپ اضافے کیے اور جدید سائنسی طریق کار اسی کی بنیاد پر استوار ہوا تھا ۔اس وقت ستر فی صد سے زیادہ ستاروں کے نام عربی ہیں مگر بہت زیادہ لوگ یہ بات نہیں جانتے ہیں‘‘ ۔

زمین ہموار ہے تحریک

ان سے جب ’’زمین ہموار ہے‘‘ تحریک کے دعوے کے بارے میں پوچھا گیا تو حسن الحریری کا کہنا تھا کہ یہ تو بالکل حیران کن بات ہے کہ لوگ پھر سے صفر سے اپنے سفر کا آغاز کرنا چاہتے ہیں اور گذشتہ ہزاروں برس کے دوران میں جو کچھ ثابت ہوچکا ہے ،وہ اس کا انکار کرنا چاہتے ہیں ۔

انھوں نے اس تھیوری کے پیروکاروں کو سادہ سا چیلنج کیا ہے اور وہ کہتے ہیں :’’ میں زمین کے کنارے تک لے جانے والے کسی بھی شخص کو دس لاکھ ڈالرز بہ طور انعام دینے کو تیار ہوں‘‘۔الحریری کا کہنا تھا کہ اس دعوے کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔