.

سعودی خواتین کی ڈرائیونگ کے بعد تارکِ وطن خاندانی ڈرائیوروں کا کیا بنے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں بہت سی خواتین رمضان المبارک کے بعد خود سے کار چلانے کی شدت سے منتظر ہیں ۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے گذشتہ سال جاری کردہ فرمان کے مطابق سعودی خواتین 24 جون کے بعد کاریں چلا سکیں گی۔

انھیں یہ اجازت ملنے کے بعد یہ توقع کی جارہی ہے کہ بہت سے خاندان اپنے غیرملکی ڈرائیوروں کو ملازمت سے فارغ کردیں گے کیونکہ ان کی اپنی خواتین کے کار کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کے بعد ان تارک ِ وطن ڈرائیوروں کی خدمات کی ضرورت نہیں رہے گی۔البتہ بہت سے سعودی خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ان ڈرائیوروں کو ملازمت سے فارغ نہیں کریں گے کیونکہ وہ ان کے خاندانوں کا حصہ بن چکے ہیں اور وہ کاریں چلانے کے علاوہ اور بھی بہت سے امور انجام دیتے ہیں ۔

ایک رپورٹ کے مطابق اس سال کے آخر تک سعودی عرب میں ڈرائیوروں کی بھرتی میں 40 فی صد کمی واقع ہوگی اور ڈرائیوروں کی بھرتی پر اٹھنے والے اخراجات میں بھی 33 فی صد کمی واقع ہوگی۔

سعودی عرب کے محکمہ شماریات کی ایک رپورٹ کے مطابق 2017ء کی پہلی سہ ماہی میں مملکت میں کام کرنے والے غیر ملکی ڈرائیوروں کی تعداد 13 لاکھ 80 ہزار تھی۔وہ ہر ماہ اوسطاً 15 سو سعودی ریال تنخواہ وصول پا رہے تھے۔

سعودی خواتین کی ڈرائیونگ پر عاید پابندی کے خاتمے کی تاریخ قریب آنے پر سعودی گزٹ نے بہت سے خاندانوں سے ان کے ڈرائیوروں کے مستقبل کے بارے میں بات کی ہے اور ان کی رائے جاننے کی کوشش کی ہے کہ وہ اس معاملے کے حوالے سے کیا کہتے ہیں۔

الیکٹریکل انجینئرنگ کی طالبہ ابرار وفا نے بتایا کہ ’’میں تین وجوہ کی بنا پر اپنے ڈرائیور پر انحصا ر ختم کردوں گی ۔اوّل یہ کہ وہ جب خریداری مرکز میں اشیائے ضروریہ کی خرید کے لیے جاتی ہیں تو ان کے ڈرائیور کو کئی گھنٹے تک ایسے ہی انتظار کرنا پڑتا ہے ۔اس طرح میں اس کو اخلاق اور مروت کے خلاف سمجھتی ہوں کہ ڈرائیور صرف میری خریداری کے لیے مصروفیت کی وجہ سے کئی کئی گھنٹے منتظر رہتا ہے۔میں جب خود کار چلاؤں گی تو پھر میں اپنے کاموں کے لیے آزاد ہوں گی‘‘۔

دوم ، میرے اور میرے خاندان کے لیے یہ زیادہ محفوظ طریقہ ہے کہ میں خود کار چلاؤں ۔یہ نہ صرف اب بلکہ مستقبل میں میری بیٹی کے لیے بھی محفوظ ہوگا کہ وہ کسی غیر ملکی ڈرائیور کے بجائے خود کار چلائے۔

ابرار وفا نے تیسری وجہ یہ بتائی ہے کہ ان کے خاندان میں خواتین کے لیے صرف ایک ہی ڈرائیور ہے ۔اگر وہ ایک خاتون کو کسی کام کے لیے گھر سے باہر لے کر جاتا ہے تو دوسری خواتین کو اس کی واپسی کا انتظار کرنا پڑتا ہے یا پھر وہ ایک دوسری سے رابطے کے بعد یہ طے کرتی ہیں کہ وہ کس وقت ڈرائیور کی خدمات استعمال کرسکتی ہے۔اس طرح ڈرائیور پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور خاندان کے افراد بھی پابند ہوجاتے ہیں۔جب ایک عورت خود اپنی کار چلائے گی تو پھر اس طر ح کے مسائل درپیش نہیں ہوں گے۔

ابلاغ ِ عامہ میں گریجو ایٹ ریہاب میکور کا کہنا تھا کہ وہ جب کار چلانا شروع کردیں گی تو اپنے ڈرائیور کو چھٹی دے دیں گی۔انھوں نے اس کی ایک اور وجہ بیان کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ممکن ڈرائیور بہت اچھا ہو لیکن جب وہ اپنے اہلِ وطن سے ملتا ہے تو اس کا لب و لہجہ ہی تبدیل ہوجاتا ہے ۔وہ زیادہ تنخواہ کا مطالبہ کرتا ہے یا پھر گھر سے باہر لے جانے کے لیے اضافی ٹِپ کا مطالبہ شروع کردیتا ہے۔ اگر ہم اس کے اس طرح کے مطالبات پورے نہ کریں تو وہ پھر ملازمت چھوڑنے کی دھمکی دے دیتا ہے۔

ریہاب میکور کا مزید کہنا تھا کہ بیشتر ڈرائیور وقت کی قدر نہیں کرتے ، وہ اپنی تیاری میں بہت زیادہ وقت صرف کر دیتے ہیں۔یوں گھر سے تاخیر سے روانہ ہونے کے بعد تیز رفتاری سے کاریں چلاتے ہیں ،اس طرح حادثات رونما ہوجاتے ہیں یا پھر وہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں اور اس کے جرمانے ہمیں ادا کرنا پڑتے ہیں۔

ایک خاتون خانہ ندا حافظ کا کہنا ہے کہ میں اپنے گھر میں ایک ڈرائیور یا ملازم کو رکھنا بالکل بھی پسند نہیں کرتی ہوں۔مجھے اپنے ڈرائیور سے کبھی کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا لیکن میں خود ذمے داری کا بوجھ اٹھانا چاہتی ہوں اور آزاد رہنا چاہتی ہوں ۔ان کا کہنا تھا کہ میں پابندی ہٹنے کے بعد خود کار چلاؤں گی اور کفالہ نظام کے تحت ڈرائیور کی مزید ذمے داری قبول نہیں کروں گی۔

ایک ڈرائیور ، کئی کام

دوسری جانب بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ڈرائیوروں کو ملازمتوں سے فارغ نہیں کریں گے اور انھیں اپنے ساتھ ہی رکھیں گے کیونکہ وہ صرف کار نہیں چلاتے ہیں بلکہ گھر کے دو سرے بہت سے کام بھی کرتے ہیں اور خاندان کے ایک اہم رکن کا کردار ادا کررہے ہیں۔

گھریلو خاتون ایمان بخاری نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا ڈرائیور ان کے خاندان کے ساتھ گذشتہ کئی برسوں سے رہ رہا ہے۔ وہ گھر کے بعض اہم کاموں کو انجام دیتا ہے۔اس کو یہ معلوم ہے کہ کون سا کام کس طرح انجام دینا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’’ احمد ہمارا صرف ڈرائیور ہی نہیں ، وہ میرے مکان میں کئی ایک اہم کام انجام دیتا ہے۔ وہ میرے وِلا کی دیکھ بھال کرتا ہے۔وہ ہر روز پودوں کو پانی دیتا ہے ،بجلی اور واٹر پمپ کا خیال رکھتا ہے۔وہ گھر کا سودا سلف لے کر آتا ہے اور اس کو یہ معلوم ہے کہ میں کہاں سے ترجیحا ً خریداری کرتی ہوں ۔ جب کبھی مجھے ڈاکٹر کو دکھانے کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ مجھے اسپتال لے جاتا ہے ۔سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کو یہ معلوم ہے کہ جدہ کی مصروف شاہراہوں پر کار کس طرح چلانی ہے اور ٹریفک سے کیسے نکلنا ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ میرا نہیں خیال میں اپنے ڈرائیور کو ملازمت سے فارغ کروں گی کیونکہ میں اپنی بڑی عمر کی وجہ سے شاید کار چلانا نہ سیکھ پاؤں‘‘۔ایمان بخاری کی عمر پچاس سال سے کچھ اوپر ہے۔

ایک ریٹائرڈ سعودی ملازم عبدالعزیز محمد نے بتایا کہ ان کا ڈرائیور ان کے خاندان کا حصہ بن چکا ہے ۔ وہ گذشتہ 30 سال سے ان کے ہاں خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس نے تو خود مجھ سے کئی مرتبہ کہا کہ اس کو آبائی وطن جانے کی اجازت دے دی جائے لیکن میں اس کو چھٹی نہیں دے رہا ہوں اور اس سے یہ کہا ہے کہ وہ سال میں دو مرتبہ اپنے خاندان سے ملنے کے لیے آبائی ملک میں جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ جب ایک ڈرائیور کئی ایک متفرق کام کرتا ہے تو اس کے بغیر رہنا ناممکن ہے۔میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تم کار چلانا سیکھ لو تو پھر ڈرائیور کو چھٹی دے دی جائے۔اس پر اہلیہ کا کہنا تھا کہ میں کبھی ایسا نہیں ہونے دوں گی کیونکہ وہ خاندان کا اہم رکن ہے ،وہ چھٹیوں میں ہماری عدم موجودگی میں ہمارے گھر کی دیکھ بھال کرتا ہے۔وہ میری بیٹی اور بیٹے کی ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے۔وہ دونوں ہم سے الگ رہتے ہیں تو ایسی صورت میں ہم کیوں اس کو فارغ کرنے لگے‘‘۔