.

روس کا وہ شہر جہاں "سورج غائب نہیں ہوتا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فٹبال کے عالمی کپ کے انعقاد کے موقع پر روس کے شہر دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے تماشائیوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ تاہم سینٹ پیٹرزبرگ شہر اپنی کئی امتیازی خصوصیات کے سبب منفرد حیثیت کا حامل ہے۔ بالخصوص اس شہر کی راتیں جہاں آدھی رات تک سورج کی روشنی کا لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔

سینٹ پیٹرزبرگ کی یہ روشن راتیں کروڑوں سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔

مصر سے تعلق رکھنے والے عبداللہ اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے پہلی مرتبہ عالمی کپ کے میچوں کے تماشائیوں میں شریک ہونے کے واسطے روس پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ مصر کی ٹیم نے اپنا میچ اس سحر انگیز شہر میں کھیلا"۔ عبداللہ کے مطابق وہ وہ یہاں سورج کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے جو غروب ہونے سے انکاری رہتا ہے اور اس شہر میں رات کا گزر چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں رہتا۔

سینٹ پیٹرزبرگ قطب شمالی کے انتہائی نزدیک ہے۔ موسم گرما کے عرصے میں یہاں چند ہفتوں کے لیے رات کا وجود تقریبا ختم ہو جاتا ہے۔

شہر کے لوگ اس مظہر کو ایک نیا جنم شمار کرتے ہیں جو چھ ماہ کی شدید اور تاریک سردی کے بعد سامنے آتا ہے۔

مئی کے اواخر سے جولائی کے وسط تک اس حیران کن منظر کو دیکھنے کے لیے ہر سال تقریبا 50 لاکھ سیاح سینٹ پیٹرزبرگ کا رخ کرتے ہیں۔ یہ تعداد روس کے اس خوب صورت شہر کی آبادی کے مساوی ہے۔

روس میں ایک ٹور آپریٹر کمپنی کے لیے بطور گائیڈ کام کرنے والے احمد صبیح کا کہنا ہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ کی روشن راتیں اس شہر کی پہچان ہیں جن کو ایک دوسرے سے علاحدہ نہیں کیا جا سکتا۔