روس کا وہ شہر جہاں "سورج غائب نہیں ہوتا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فٹبال کے عالمی کپ کے انعقاد کے موقع پر روس کے شہر دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے تماشائیوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ تاہم سینٹ پیٹرزبرگ شہر اپنی کئی امتیازی خصوصیات کے سبب منفرد حیثیت کا حامل ہے۔ بالخصوص اس شہر کی راتیں جہاں آدھی رات تک سورج کی روشنی کا لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔

سینٹ پیٹرزبرگ کی یہ روشن راتیں کروڑوں سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔

مصر سے تعلق رکھنے والے عبداللہ اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے پہلی مرتبہ عالمی کپ کے میچوں کے تماشائیوں میں شریک ہونے کے واسطے روس پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ مصر کی ٹیم نے اپنا میچ اس سحر انگیز شہر میں کھیلا"۔ عبداللہ کے مطابق وہ وہ یہاں سورج کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے جو غروب ہونے سے انکاری رہتا ہے اور اس شہر میں رات کا گزر چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں رہتا۔

سینٹ پیٹرزبرگ قطب شمالی کے انتہائی نزدیک ہے۔ موسم گرما کے عرصے میں یہاں چند ہفتوں کے لیے رات کا وجود تقریبا ختم ہو جاتا ہے۔

شہر کے لوگ اس مظہر کو ایک نیا جنم شمار کرتے ہیں جو چھ ماہ کی شدید اور تاریک سردی کے بعد سامنے آتا ہے۔

مئی کے اواخر سے جولائی کے وسط تک اس حیران کن منظر کو دیکھنے کے لیے ہر سال تقریبا 50 لاکھ سیاح سینٹ پیٹرزبرگ کا رخ کرتے ہیں۔ یہ تعداد روس کے اس خوب صورت شہر کی آبادی کے مساوی ہے۔

روس میں ایک ٹور آپریٹر کمپنی کے لیے بطور گائیڈ کام کرنے والے احمد صبیح کا کہنا ہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ کی روشن راتیں اس شہر کی پہچان ہیں جن کو ایک دوسرے سے علاحدہ نہیں کیا جا سکتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں