.

’ناقابل یقین‘۔۔ جرمنی میں غائب ہونے والی48 ٹن وزنی کرین مصر سے برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چھوٹی موٹی چیزوں کی چوری معمول کی بات ہے مگر درجنوں ٹن وزنی کرین جیسی بھاری مشین کا ایک ملک میں چوری ہونے کے بعد دوسرے ملک میں پہنچ جانا بلا شبہ ناقابل یقین واقعہ لگتا ہے، مگر حقیقت میں ایسا ایک واقعہ ہوچکا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اس حیران کن واقعے کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق چند ماہ قبل جرمنی میں 48 ٹن وزنی کرین چوری ہوئی جسے ملک بھر میں ڈھونڈا گیا مگر اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔ تین ماہ کےبعد پتا چل کہ وہ کرین تو مصر پہنچ چکی ہے۔

جرمنی کے شہر شٹوٹگارٹ میں گم ہونے کے بعد مصر سےملنے والی کرین کے واقعے نے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ جرمنی پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں مگر چوروں نے ایسا کام دکھایا کہ سیکیورٹی اداروں کسٹم حکام کو کانوں کان خبر تک نہ ہوئی کہ ایک دیو ہیکل مشین چوری ہونے کے بعد ایک سے دوسرے ملک پہنچا دی گئی۔

یہ گذشتہ 19 مارچ کا واقعہ ہے جب جرمنی کے شہر شٹوٹگارٹ میں 48 ٹن وزن کرین اچانک غائب ہوگئی۔ اس کے مالک نے پولیس کے پاس کرین چوری کی شکایت درج کرائی اور کرین کا نمبر اور اس کی دیگر تمام تفصیلات پولیس کو مہیا کردیں۔ پولیس نے تمام متعلقہ اداروں کی مدد سے گم ہونے والی کریک کا سراغ لگانے کی پوری کوشش کی مگر کوئی پتا نہ چلا۔ پولیس نے چوروں کا پتا چلانے کے لیے مجرم کی نشاندہی پر پانچ ہزار یورو انعام کا بھی اعلان کیا۔

کرین کے مالک کا کہنا ہے کہ کرین کی قیمت 2 لاکھ یورو ہے۔ اور اسے آخری بار جرمنی کے علاقے a38 میں ارفورٹ کی طرف لے جاتے دیکھا گیا۔

بیس مارچ کو جرمنی کے اخبارات میں بھی کرین چوری کی خبریں شائع ہوئیں۔ بحری اور بری بندرگاہوں کو بھی کرین کی گم شدگی کے بارے میں با خبر کیا گیا۔

یہاں تک کہ تین ماہ کے بعد کرین کے بارے میں پتا چلا کہ وہ مصر کے شہر اسکندریہ پہنچا دی گئی ہے اور اس وقت اسکندریہ کے کسٹم حکام کے پاس ہے۔ جرمنی کے اخبارات میں کرین کی گم شدگی سے زیادہ اس کی برآمد کو حیران کن قرار دیا جا رہا ہے۔ لوگ یہ سوچنے پر مجبور اور حیران ہیں کہ جہاں ایک سوئی بھی بیرون ملک بغیر چھان بین کے نہیں جاسکتی وہاں 48 ٹن وزنی کرین بھلا کیسے چلی گئی۔ کرین چور اسے سمندر ہی کے راستے مختلف ممالک سے گذار کرمصر لے گیا۔