ایرانی ملیشیا کا درعا میں اسدی فوج کے ساتھ مل کر لڑنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں موجود ایرانی ملیشیا نے درعا شہر میں اسدی فوج کے ساتھ مل کر اپوزیشن جماعتوں کے خلاف لڑائی کا اعلان کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق رواں ماہ کے اوائل میں روس نے سختی کے ساتھ تاکید کی تھی کہ جنوب مغربی شام میں موجود تمام ایرانی اور غیر سرکاری شامی گروپ وہاں سے نکل جائیں گے مگر اس کے باوجود ان علاقوں میں ایرانی ملیشیا بدستور موجود ہے۔

روسی وزیرخارجہ سرگئی لافروف نے رواں ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ جنوب مغربی شام میں صرف روسی فوج یا شام کی سرکاری فوج تعینات کی جائے گی۔ ان علاقوں میں ایرانی ملیشیا کو رہنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

گذشتہ روز شام میں موجود ایرانی ملیشیا نے اعلان کیا کہ وہ درعا کے علاقے بصر الحریر میں باغیوں کے خلاف لڑائی میں بشارالاسد کی فوج کے شانہ بہ شانہ لڑائی میں شریک ہے۔

ایرانی ملیشیا کی جانب سے درعا میں اسدی فوج کے ساتھ مل کر لڑائی میں حصہ لینے کا اعلان روس کی ایرانی ملیشیا کے انخلاء کی تجویز پر سوالیہ نشان ہے۔ شام میں موجود ایرانی ملیشیا ’ذوالفقار‘ نے ایک بیان میں کہا کہ اس کے جنگجو بصرالحریر میں موجود ہیں اور وہ اسدی فوج کے ساتھ مل کر باغیوں سے جنگ میں حصہ لیں گے۔

اس گروپ کی طرف سے ’فیس بک‘ پر کچھ جنگجوؤں کی تصاویر بھی پوسٹ کی گئی ہیں تاہم ان فوجیوں اور جنگجوؤں کی شناخت نہیں ہو سکتی۔

ذوالفقار ملیشیا کا کہنا ہے کہ منگل کے روز تنظیم کے سیکرٹری جنرل پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی تھی تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔ "ذوالفقار" کی طرف سے جاری کردہ تصاویر میں ایک گاڑی دکھائی گئی ہے جو فائرنگ کی زد میں آنے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار دکھائی دیتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں