"آرامکو" میں نمایاں خدمات سرانجام دینے والی خواتین پر"العربیہ" کی خصوصی دستاویزی فلم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقتصادی اور انسانی وسائل میں تنوّع ،،، یہ ویژن 2030 پروگرام کے ذریعے سعودی عرب کی تاریخ میں جاری اقتصادی اور سماجی اصلاح کے سب سے بڑے عمل کے دو بنیادی عناصر ہیں۔ تین برس قبل سعودی ارامکو نے کمپنی کے لیے خواتین قیادت تیار کرنے کے واسطے ایک خصوصی یونٹ کا آغاز کیا تھا۔ ارامکو نے قائدانہ منصبوں پر خواتین کی تعداد 4 سے بڑھا کر 84 تک پہنچا دی۔ سعودی حکومت بھی معاشرے میں خواتین کے کردار اور مقام میں اضافے کے لیے کوشاں ہے اور وہ 2020ء تک ورک فورس میں خواتین کا تناسب 42% تک پہنچانے کا خواہاں ہے۔

سعودی ارامکو کے چیف ایگزیکٹو امین الناصر نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "دنیا میں تیل پیدا کرنے والی اس سب سے بڑی کمپنی میں پہلی سعودی خاتون اہل کار 1964ء میں آئیں۔ خواتین کو کامیاب کرنے کے حوالے سے ارامکو کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ کمپنی نے اپنی تاریخ میں 90 ممالک کے افراد کے ساتھ کام کیا۔ مختلف ثقافتوں کے حامل ہونے کے باوجود کمپنی نے انہیں کام کرنے کے لیے مناسب حالات اور فضا فراہم کی۔ یہ بات واضح ہے کہ کام کے حوالے سے بنیادی چیز کارکردگی ہے۔ شہریت سے قطع نظر مرد اور خواتین اہل کاروں میں کوئی تفریق نہیں۔ ارامکو نے ایسے قوانین اور نظام وضع کیے ہیں جن کے مطابق جائزے کا بنیادی معیار اہلیت اور کارکردگی ہے"۔

العربیہ نیوز چینل کی جانب سے ایک دستاویزی فلم تیار کی گئی ہے۔ اس فلم میں سعودی ارامکو کمپنی کے پروگراموں کا تعارف پیش کیا گیا ہے جن کا مقصد خواتین قیادت تیار کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ارامکو میں کام کرنے والی بعض خواتین اہل کاروں کی کہانی اور خواتین کو بہتر ماحول فراہم کرنے کے حوالے سے کمپنی کی سپورٹ کے احوال بھی شامل کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ ارامکو کمپنی ہر سال پیش کی جانے والی تمام اسکالر شپس میں 30% حصّہ خواتین کے لیے مختص کرتی ہے۔ کمپنی اپنی ضرورت کے مطابق طالبات کو مختلف جامعات میں مخصوص شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجتی ہے۔ ارامکو کمپنی ہر سال ایک ہزار کے قریب اسکالر شپس پیش کرتی ہے۔

ادھر کمپنی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس وقت خواتین کی بھرتی کا تناسب 20% ہے جو کمپنی کی تاریخ میں بلند ترین سطح ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں