ہدف کو آگ لگانے والی چین کی ’لیزر کلاشنکوف‘ کا تعارف!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

صنعت اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں چین برق رفتاری سے ترقی کرنے کے ساتھ دفاعی شعبے میں بھی حیران کن اسلحہ تیار کررہا ہے۔ حال ہی میں چین کی ایک نئی لیزر کلاشنکوف کی خبریں ذرائع ابلاغ کی توجہ مرکز بنیں۔ یہ کلاشنکوف کیسی ہے؟ کیسے کام کرتی ہے اور روایتی کلاشنکوفوں سے کیسے مخلتف ہے؟۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایک رپورٹ میں انہی سوالوں کا جواب دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین میں تیار ہونے والی AK-47 ایک ایسی بندوق ہے جو اب تک صرف فلموں میں دکھائے گئے فرضی اسلحہ تک محدود تھی مگر چین نے اسے حقیقت میں پیش کردیا ہے۔ اس کلاشنکوف کی لیزر گولی کا نشانہ بننے والے افراد تکلیف کی شدت سے اپنا توازن کھو بیٹھیں گے۔

لیزر کلاشنکوف 800 میٹر تک اپنے ہدف کو درست انداز میں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لیزر سے حملہ اگرچہ جسم پر کوئی زخم نہیں لگائے گا مگر اس کے نتیجے میں جسم میں شدید تکلیف پیدا ہونے کے ساتھ ہدف کو آگ لگ سکتی ہے۔

چینی لیزر کلاشنکوف کھڑکیوں میں نقب لگانے کا بہترین اسلحہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا دوسرا فنکشن جسم میں آگ لگانا ہے۔ ماہرین جن کا نام سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر ظاہر نہیں کیا گیا کا کہنا ہے کہ چینی لیزر کلاشنکوف کی بڑی تعداد میں تیاری کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ کلاشنکوف پولیس، انسداد دہشت گردی فورس اور مسلح افواج کو دی جائے گی۔

جنگ کی صورت میں یہ لیزر کلاشنکوف ٹینکوں اور گاڑیوں کی تیل کی ٹینکیوں کو نشانہ بنا کر ان میں آگ بھڑکا دے گی جس کے نتیجے میں وہ ناکارہ ہو جائیں گے۔

اخبار چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق ’لیزر کلاشنکوف‘ چائنا سائنس اکیڈمی کے زیرانتظام ’زیان آپٹکس اینڈ ریسیجن میکانیکس انسٹیٹٰوٹ‘ کی جانب سے تیار کی گئی ہے تاہم یہ معلوم نہیں کہ آیا اسے کب تک باقاعدہ فوج یا پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ’ AK-47‘ لیزر کلاشنکوف وزن میں بہت ہلکی ہوگی جس کا وزن صرف تین کلو گرام تک ہوگا۔ تاہم یہ کلاشنکوف اپنے ہدف کو 800 میٹر تک نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھے گی۔ 15 ملی میٹر دھانے والی اس کلاشنکوف کو ’لیتھیم بیٹری‘ کی مدد سے چلایا جائے گا۔ اسے فوجی گاڑیوں کشتیوں اور جہازوں پر بھی رکھا جاسکتا ہے۔

چینی کلاشنکوف کم سے کم دو سکینڈز میں 1000 لیزر فائر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

کلاشنکوف کی تیاری میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اے کے 47‘ لیزر کلاشنکوف کا ہدف اگر کوئی شخص ہوگا تو وہ اس کے کپڑوں میں آگ لگا دے گی۔ اگر اس نے ریشم کے کپڑے پہن رکھے ہوں تو اس کے کپڑوں میں فورا آگ بھڑک اٹھے گی اور اس کا پورا جسم جھلس جائے گا۔ لیزرکے حملے اور آگ لگنے سے ہونے والی تکلیف ناقابل برداشت ہوجائے گی۔

سائنسدانوں کاکہنا ہے کہ لیزر اسلحہ ایک غیر مرئی اور آواز کے بغیر ہےجو عموما لوگوں کو خوف زدہ کرنے کا ایک ذریعہ ہوسکتا ہے۔ اس حملے کے شکار ہونے والے شخص کے بارے میں یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ کسی حادثے کا شکار ہوگیا ہے۔

لیزر کلاشنکوف کے استعمال میں سخت احتیاط بھی برتی جائے گی۔ اس کے استعمال کی کڑی نگرانی ہوگی اور اسے حکومت کی اجازت کے بغیر کسی جگہ تیار نہیں کیا جاسکے گا اور بغیر لائسنس کے اسے استعمال کرنا ممنوع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں