سعودی لکھاری کا دو گھنٹوں میں پانچ جامعات سے فارغ التحصیل ہونے کا دل چسپ قصّہ !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

آج سے تقریبا 31 برس قبلDiploma Factory نامی کتاب میں یہ کہا گیا تھا کہ جعلی ڈگریوں اور تعلیمی اسناد کے حصول میں سب سے زیادہ دل چسپی رکھنے والے طلبہ کا تعلق خلیج، بھارت اور چین سے ہے۔

معروف سعودی کالم نگار فہد عامر الاحمدی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ انہوں نے خود سے مذکورہ کتاب میں دی گئی معلومات کی تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا۔ فہد کا مقصد سب لوگوں کے سامنے اس بات کا ثبوت پیش کرنا تھا کہ فرضی سند کا حصول کوئی مشکل کام نہیں۔ وہ اس سے قبل جعلی اسناد کے بارے میں کی کالم لکھ چکے ہیں۔

فہد کے مطابق وہ 1989ء میں امریکی ریاست مینیسوٹا کی ہیملن یونی ورسٹی کے زیر انتظام ایک انسٹی ٹیوٹ میں انگریزی زبان کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اس دوران تعلیم مکمل کرنے سے قبل ہی انہیں ایک سعودی طالب علم کے واسطے سے ایک باوقار امریکی شخص کا معلوم ہوا جس نے فہد کو پوری ضمانت کے ساتھ تعلیمی سند خریدنے کی پیش کش کی۔ اس بے ہودہ پیش کش پر سخت حیرانی کے باوجود فہد نے اس شخص سے کئی سوالات کر ڈالے جن کا اُس نے پورے اطمینان کے ساتھ جواب دیا۔ فہد نے پہلے تو دو روز بعد اس شخص کے ساتھ ملاقات پر اتفاق رائے کیا تاہم پھر خود ہی حتمی طور پر اس معاملے سے اپنا دل ہٹا لیا کیوں کہ ان کو مسلسل یہ خیال ستاتا رہا کہ "میں اپنی وفات تک ایک جعلی ڈگری کے ذریعے روزی کماتا رہوں گا!"۔ البتہ انہوں نے ایک دوسرے مقصد سے اپنے "منصوبے" پر عمل درامد کا فیصلہ کیا۔

فہد کے مطابق انہوں نے دنیا بھر کی جعلی اسناد سے متعلق 3 کیٹلاگ کھنگال ڈالے۔ اس کے بعد کیمبرج یونی ورسٹی سے گریجویشن، کیلیفورنیا یونی ورسٹی سے ماسٹرز، آکسفورڈ یونی ورسٹی سے انگریزی میں ڈپلومہ کی اسناد کے علاوہ گریفتھ یونی ورسٹی سے انفارمیشن ٹکنالوجی کی مارک شیٹ کا انتخاب کیا۔

فہد نے مزید بتایا کہ "ڈگریوں کے تاجر کو توقع نہ تھی کہ میں یہ تمام اسناد خریدوں گا۔ اس پر وہ بولا کہ : تم چار مزید ڈگریاں لے لو تو میں تم کو 50% رعایت دے دوں گا"۔ اس پر فہد نے پوچھا کہ آیا وہ شخص سعودی عرب کی جعلی تعلیمی سند فراہم کر سکتا ہے۔ اس شخص نے جواب دیا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا کیوں کہ اس نے زندگی میں کبھی سعودی عرب کی سند ہی نہیں دیکھی۔ بعد ازاں اس تاجر نے کہا کہ "کیا خیال ہے اگر میں تم کو اکنامکس میں ماسٹرز کی ایک اضافی سند 120 ڈالرز میں فراہم کردوں ؟"۔

فہد کے مطابق 10 برس قبل امریکی وزارت انصاف نے دس ہزار افراد کے ناموں کی ایک بلیک لسٹ جاری کی تھی جو جعلی تعلیمی اسناد کے حامل ہیں۔ ان دس ہزار میں 70 سعودی بھی تھے جو اس وقت ایسے منصب اور عہدوں پر کام کر رہے ہیں جن کو معمولی نہیں قرار دیا جا سکتا۔

فہد نے بتایا کہ "2012ء میں سعودی کونسل آف انجینئرز کی جانب سے جانچ پڑتال کے نتیجے میں 700 جعلی اسناد کا اسکینڈل سامنے آیا، یہ اسناد یورپ، امریکا، پاکستان اور بھارت سے جاری ہوئی تھیں۔ اگر ایک دن کے اندر یہ انکشاف سامنے آیا ہے تو ہم یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ کیا کچھ ہو سکتا ہے جو گزشتہ برسوں کے دوران سامنے نہیں آ سکا؟"۔

مقبول خبریں اہم خبریں