.

اس دورانیے کی ملازمت کرنے والی خواتین کو ذیابیطس کا خطرہ زیادہ درپیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کینیڈا میں ہونے والی ایک طبّی تحقیق سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ جو خواتین ہفتے میں 45 گھنٹے سے زیادہ (یعنی روزانہ 9 گھنٹے اور اس سے زیادہ) کام کرتی ہیں اُنہیں ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ زیادہ درپیش ہوتا ہے۔

یہ تحقیق 12 برس تک جاری رہی اور اس میں 7065 افراد نے شرکت کی۔ شرکاء میں کسی کی بھی عمر 35 برس سے کم نہ تھی اور ان میں کوئی بھی ذیابیطس کے مرض میں مبتلا نہیں تھا۔

طبّی تحقیقی مطالعے کے اختتام پر شرکاء میں 8 في صد خواتین اور 12 فی صد مرد ذیابیطس کا شکار ہو چکے تھے۔ تاہم کام کے دورانیے (گھنٹوں) نے مردوں کے مبتلا ہونے پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔ البتہ جو خواتین ہفتے میں 45 گھنٹوں سے زیادہ کام کرتی ہیں اُن کو ہفتے میں 35 سے 45 گھنٹے کام کرنے والی خواتین کے مقابلے میں ذیابیطس کا خطرہ 63% زیادہ درپیش رہا۔

ذیابیطس سے متعلق تحقیقات کے ماہرین نے باور کرایا ہے کہ زیادہ گھنٹوں تک کام اور پھر گھر کی ذمّے داریوں کا بوجھ اس سے خواتین کو مزمن تناؤ، سوزش اور ہارمون کی تبدیلی کا خطرہ زیادہ درپیش ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ ذیابیطس میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔

اس حوالے سے ساؤتھ کیرلائنا میڈیکل یونی ورسٹی کے محقّق ڈینیل لیکلانڈ کا کہنا ہے کہ کام کے دورانیے کو مختصر بنایا جائے، ورزش اور آرام کے لیے وقت نکالا جائے اور کام سے ہٹ کر بہت سی سرگرمیاں انجام دی جائیں۔