.

عمر کی پانچویں دہائی میں خاتون اداکار کے بچّے کی پیدائش، عمر رسیدہ ماؤں پر نئی بحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈنمارک سے تعلق رکھنے والی خاتون اداکار بریگیٹ نیلسن کے یہاں 54 برس کی عمر میں پانچویں بچّے کی پیدائش نے اُن خواتین کی تعداد میں اضافے کے حوالے سے بحث کا دروازہ کھول دیا ہے جو بڑی عمر میں بچے جنم دینے کے لیے IVF کا استعمال کر رہی ہیں۔

بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ماؤں کی اوسط عمر میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے کیوں کہ بانجھ پن کے علاج کا رخ کرنے والی خواتین بڑھ رہی ہیں تا کہ بچّہ پیدا کرنے کی عمر میں اضافہ کیا جا سکے۔

برطانوی ادارے "برٹش پریگنینسی ایڈوائزری سروس" کی سربراہ کیتھرین اوبرائن کہتی ہیں کہ "ہمیں خواتین کو اعتماد دینا ہو گا تا کہ وہ یہ فیصلہ خود سے کر سکیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایسی طبّی دیکھ بھال کی خدمات فراہم کریں جو ان کے فیصلے کو سپورٹ کریں نہ کہ ان خواتین کو ایسے وقت میں بچے پیدا کرنے پر قائل کریں جو اُن کے لیے مناسب نہ ہو"۔

ڈینش خاتون اداکار نیلسن کے مطابق وہ اُن بیضوں کے استعمال کے ذریعے حاملہ ہوئیں جو انہوں نے اپنی عمر کی چالیس کی دہائی کے دوران منجمد کروائے تھے۔

واضح رہے کہ عمر کے ساتھ بیضوں کی تعداد اور ان کا معیار کم ہو جاتا ہے۔ لہذا جو خواتین 45 برس یا اس کے بعد حاملہ ہونے کی کوشش کرتی ہیں ان کی اکثریت کو ماہرین کا یہ مشورہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے سے کم عمر خواتین سے لیے گئے بیضوں کا استعمال کریں۔

یورپ میں فرٹیلیٹی کا علاج فراہم کرنے والے 1279 اداروں کے ایک حالیہ تجزیے سے معلوم ہوا کہ 2014ء میں بیضوں کے عطیات کے ذریعے ہونے والی پیدائشوں میں ایک تہائی اُن خواتین کے یہاں ہوئیں جن کی عمر 40 برس یا اس سے زیادہ تھی۔

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق گزشتہ برس ستّر سال کے قریب ایک بھارتی خاتون نے عطیے کے بیضوں کا استعمال کرتے ہوئے بچّے کو جنم دیا تھا۔ اس واقعے نے بڑی عمر کی خواتین کی جانب سے بچے کی پیدائش کے لیے علاج کی اخلاقیات کے حوالے سے بحث کو فروغ دیا۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف فرٹیلیٹی سوسائٹیز کے صدر رچرڈ کینیڈی کا کہنا ہے کہ پچاس برس یا اس سے زائد عمر میں خواتین کا حاملہ ہونا کوئی ایسی بات نہیں جس کو ہر صورت سراہا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس عمر میں حمل کے دوران درپیش امراض قلب اور دیگر طبّی مسائل کے خطرات کی جانب اشارہ کیا۔