.

سویڈن: جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے کے لیے لیزر گائیڈڈ بموں کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سویڈن کی فضائیہ نے ایک اعلان میں بتایا ہے کہ ملک کے جنگلات میں لگی آگ پر لیزر گائیڈڈ بم داغے گئے ہیں۔ انگریزی ویب سائٹ "popular mechanics" کے مطابق یہ وہ ہی طریقہ کار ہے جس کے تحت سال گرہ کے موقع پر جلنے والی موم بتّیوں کو پُھونک مار کر بجھایا جاتا ہے۔ اس پُھونک سے آگ کا شعلہ موم بتی کی ڈوری سے علاحدہ ہو جاتا ہے۔ تیل کے کنوؤں میں لگی آگ بجھانے کے لیے بھی انجینئر حضرات دھماکا خیز مواد کے ذریعے اسی نظریے کو استعمال کرتے ہیں۔

سویڈن کی ایک ویب سائٹ "The Local" کے مطابق ملک کے وسطی علاقوں میں واقع جنگلات میں دو ہفتے پہلے آگ بھڑک اٹھی تھی۔ یہ جنگلات Älvdalen نامی علاقے کے نزدیک ہیں اور آگ بجھانے والے اہل کاروں کا یہاں تک پہنچنا دشوار عمل ہے۔ اس سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ آگ اُس علاقے میں لگی ہوئی ہے جس کے دائرہ کار میں ایک پرانا فائرنگ زون بھی آتا ہے اور یہاں گولہ بارود کے ذخیرے موجود ہیں۔ اس کے نتیجے میں آگ بجھانے والی ٹیموں کے یہاں پہنچ جانے کی صورت میں بھی یہ علاقہ خطرناک رہے گا۔

سویڈش طیارے GBU-49 لیزر گائیڈڈ بموں کو لے کر روانہ ہوئے۔ اس دوران 9800 فٹ کی بلندی سے ایک بم گرایا گیا جو ہدف کے پاس درستی کے ساتھ گر کر پھٹا۔ دھماکے کے نتیجے میں بم گرنے کے مقام سے 100 گز کی دوری تک لگی آگ کے شعلے بُجھ گئے۔

واضح رہے کہ چوتھائی ٹن وزنی GBU-49 کو جدید ترین گائیڈڈ بم شمار کیا جاتا ہے جو ہدف کو انتہائی درستی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بم اس لحاظ سے امتیازی حیثیت کا حامل ہے کہ اس میںGPS اور لیزر کا ساتھ استعمال کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 1935ء میں جنرل جورج ایس پیٹن نے ہوائی میںMauna Loa نامی پہاڑ پر بم باری کے احکامات دیے تھے تا کہ آتش فشاں لاوے کو روکا جا سکے۔ اسی طرح 2016ء میں روسی ساختہSU-34 لڑاکا طیاروں نے ایک دریا میں منجمد تودے کو بم باری کا نشانہ بنایا تھا تا کہ دریا میں ایک مرتبہ پھر سے پانی کی روانی بحال ہو جائے۔ چین بھی اپنے ایک دریا میں جمی برف کو توڑنے کے واسطےH-6 بم بار طیارے استعمال کر چکا ہے۔