’ٹائی ٹینک‘کی تیاری میں اپنی جان دینے والا پہلا شخص کون؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

آئرلینڈ کا شہر ’بلفاسٹ‘ [Belfast] بیسویں صدی کےاوائل میں صنعت حرفت کی وجہ سے عالمی شہرت اختیار کرگیا۔ یہاں پرکپڑا سازی کی صنعت کے ساتھ بحری جہازوں کی تیاری کو کافی شہرہ ملا۔ مشہور زمانہ بحری جہاز ’ٹائی ٹینک‘ بھی ’بلفاسٹ‘ میں بنایا اور اس کی تیاری میں ہزاروں مزدوروں کا خون پسینہ شامل ہوا۔

کارخانوں کی بہتات کی بدولت اس شہر میں اطراف سے مردو خواتین مزدوری کے لیے آتے۔ کپڑا سازی کے کارخانوں میں آج سے ایک صدی قبل بھی وہاں پر دس ہزار افراد کام کرتے۔ مگر ’ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات‘ کے مصداق انہیں کام کاج کے دوران انتہائی مشکل حالات کا سامنا رہتا۔ حتیٰ کہ بعض واقعات میں مزدور اپنی جان سے چلے جاتے تھے۔ مشینوں کو شور شرابہ، کیمیائی مواد کا استعمال، رنگوں کا اسعتعمال اور طویل اوقات کار مزدوروں کے لیے انتہائی تشویشناک تھے۔

انہی مشکل حالات میں سنہ1910ء میں Haralnd and Wolf نامی جہاز سازی کی ایک نئی فاؤنڈیشن قائم کی گئی۔ اس کمپنی نے 15ہزار ملازمین کی ایک فوج ظفر موج بھرتی کی۔

اس سے قبل برطانوی بحری ٹرانسپورٹ فرم ’وائیٹ اسٹا لائن‘ کا شہرہ تھا۔ یہ کمپنی جہاز سازی کے ساتھ جہاز رانی بھی کرتی تھی۔ برطانیہ سے بحر اوقیانوس سے امریکا تک اس کے بحری جہاز چلتے۔

’ہارلینڈ اینڈ ولف‘ نے 1910ء میں وائیٹ اسٹار لاین کے مقابلے میں ایک بڑا جہاز سازی کا منصوبہ لانچ کیا۔ برطانوی فرم نے دنیا کے غیرمعمولی جسمات کے اس وقت کے سب سے بڑے بحری جہاز ’ٹائی ٹینک‘ کی تیاری میں ہزاروں افراد کار مہیا کیے۔ اس وقت ایک عام مزدور کو ہفتہ وار پانچ سے 10 ڈالر اجرت ملتی جب کہ اسی دور میں ایک ہوائی جہاز کے درجہ اول کے سفر کی ٹکٹ 4350 ڈالر میں فروخت کی جاتی۔

ٹائی ٹینک کی تیاری میں ہزاروں افراد نے کئی سال تک کام کیا مگر 15 سالہ صمویل سکوٹ وہ پہلا شخص ہے جو اس جہاز کی تیاری کےدوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

صمویل سکوٹ کو جہاز کے مختلف حصوں میں گرم میخیں گاڑھنے کا کام سونپا گیا۔ جہاز کے مختلف حصوں کو باہم مربوط کرنے کے لیے 30 لاکھ کیلیں گاڑھی گئیں۔

بیس اپریل 1910ء کو صمویل سکوٹ ایک سیڑھی پر چڑھ کر ٹائی ٹینک میں کیلیں گاڑھ رہا تھا کہ پاؤں پھسل کر کئی فٹ نیچے لوہے کے ڈھیر پر جا گرا۔ اس کی کھوپڑی ٹوٹ گئی اور اسے خون میں لت پت وہاں سےاٹھایا گیا مگر وہ جاںبر نہ ہوسکا اور اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کردی۔

پندرہ اپریل 1912ء کو ٹائی ٹینک سمندر میں اترا مگر یہ اپنے بدتر انجام کو پہنچنے کے ساتھ ساتھ 1500 سواروں کو بھی لے ڈوبا۔ ٹائی ٹینک ان پندرہ سو مسافروں ہی کی موت کا سبب نہیں بلکہ اس کی وجہ سے سب سے پہلے پندرہ سالہ صمویل سکوٹ نے اپنی جان دی تھی۔

سنہ 2011ء کو صمویل کی حاثاتی موت کی صدی پوری ہونے پر ایک یادگاری تقریب بھی منعقد کی گئی۔ بلفاسٹ شہر میں سکوٹ کی قبر پر نصب کتبے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ صمویل سکوٹ پہلا شخص ہے جو حادثاتی موت سے دوچار ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں