.

ازبک صدر سے حجاب اور ڈاڑھی پر عاید پابندی کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والا امام برطرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ازبک صدر شوکت مرزایوف سے خواتین کے حجاب اوڑھنے اور مرد وں کی ڈاڑھی پر عاید پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کرنے والے ایک پیش امام کو برطرف کردیا گیا ہے۔

شوکت مرزایوف 2016ء سے ازبکستان کے صدر ہیں۔انھوں نے اس سابق سوویت جمہوریہ میں کچھ عرصہ قبل اپنی سیاسی اصلاحات اور آزاد معیشت کے لیے مہم کے حصے کے طور پر شہریوں کو بعض مذہبی آزادیاں دی ہیں اور پہلے سے عاید پابندیوں کو ختم کیا ہے۔

لیکن ان کی حکومت نے گذشتہ ماہ ایک حکم کے تحت مذہبی ملبوسات اور علامات پر عشروں سے عاید پابندیوں کو ختم نہیں کیا تھا اور بالخصوص طالبات کے اسکولوں میں حجاب اوڑھنے پر عاید پابندی کو برقرار رکھا تھا۔

اس اقدام پر سوشل میڈیا کے نیٹ ورکس پر ایک پیش امام فضل الدین پارپیوف کی سرکردگی میں تنقید کا سلسلہ شروع کردیا گیا تھا۔تب وہ تاشقند کی مسجد امینہ میں امام تھے۔انھوں نے گذشتہ ہفتے فیس بُک پر ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی تھی اور اس میں صدر شوکت مرزایوف کو مخاطب کیا تھا۔کسی ازبک امام کی جانب سے یہ ایک غیر معمولی اقدام تھا۔

بتیس سالہ پارپیوف نے ویڈیو میں صدر مرزایوف کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ حالیہ اصلاحات کے باوجود مسلمانوں کو ڈاڑھی رکھنے اور حجاب اوڑھنے کے معاملے پر جبر واستبداد کا سامنا ہے۔انھوں نے صدر سے کہا تھا کہ وہ ضمیر کی آزادی کو برقرار رکھنے کے معاملے میں مدد کریں۔

پارپیوف نے اتوار کو اپنے فیس بُک صفحے پر لکھا ہے کہ انھیں ازبکستان کے مسلم بورڈ نے ان کے منصب سے ہٹا دیا ہے اور بعض علماء نے ان سے کہا ہے کہ وہ اپنے سابقہ بیان سے لا تعلقی کا اظہار کریں۔

وہ لکھتے ہیں: ’’ میں نے ویڈیو میں جو کچھ کہا ہے،اس پر مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہوا ہے۔تاہم مجھ سے میرے والد صاحب نے میرا اسمارٹ فون لے لیا ہے جس سے مجھے لگتا ہے کہ وہ بھی دباؤ میں ہیں‘‘۔ مسلم بورڈ نے اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

ازبک صدر شوکت مرزایوف
ازبک صدر شوکت مرزایوف