.

اماراتی سے ’محبت کی ناجائز اولاد‘ بچہ بیچنے کی کوشش پر ایتھوپیائی ملازمہ کو جیل کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دبئی میں پولیس نے ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والی ایک گھریلو ملازمہ کو اپنی ’محبت کی ناجائز اولاد‘ نومولود بچے کو 27 سو ڈالر میں فروخت کرنے کی کوشش کے الزام میں ڈرامائی طور پر گرفتار کر لیا ہےاور دبئی کی ایک عدالت نے اس عورت کو چھے ماہ قید کی سزا سنا دی ہے۔

دبئی کی ایک خاتون پولیس اہلکار نے بھیس بدل کر اس ایتھوپیائی ملازمہ اور اس کی ایک ساتھی عورت کو گرفتار کیا تھا۔دبئی پولیس نے اس 30 سالہ ایتھوپیائی عورت کے پاس خاتون پولیس اہلکار کو خریدار بنا کر بھیجا تھا ۔اس نے 10 ہزار اماراتی درہم ( 27 سو ڈالر) میں اپنا دوہفتے کا بچہ فروخت کرنے کی پیش کش کی تھی ۔اس کے ساتھ ایک اور ایتھوپیائی گھریلو ملازمہ بھی اس سودے میں اس کی مدد کررہی تھی۔

دبئی کی عدالت نے نومولود کی ماں کو انسانی اسمگلنگ کے الزام میں چھے ماہ اور اس کی ساتھی عورت کو بچہ فروخت کرنے میں مدد دینے پر تین ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔اس بچے کے نامعلوم اماراتی باپ اور ماں کے خلاف ناجائز جنسی تعلق کے الزام میں بھی مقدمہ بنایا گیا ہے اور اس کو سماعت کے لیے ایک اور عدالت میں بھیج دیا گیا ہے۔

نومولود کی ماں نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ پانچ سال قبل متحدہ عرب امارات میں گھریلو خادمہ کے طور پر کام کے لیے آئی تھی۔وہ ایک سال تک ایک مقامی خاندان کے ہاں کام کرتی رہی تھی۔اس کے بعد وہ وہاں سے بھاگ نکلی ۔وہ ایک اماراتی کے جھانسے میں آگئی اور پھر کوئی چار سال تک اس کے گھر میں غیر قانونی طور پر مقیم رہی تھی اور وہیں کام کرتی رہی تھی۔

اس دوران میں اس کے اس اماراتی شخص سے ناجائز مراسم استوار ہوگئے لیکن جب وہ حاملہ ہوگئی تو یہ شخص اس کو پانچ سو اماراتی درہم دے کر اور ایک سڑک پر چھوڑ کر رفوچکر ہو گیا تھا۔اس عورت کو القسیس کے علاقے سے اس رقم سمیت پکڑا گیا تھا۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس ایتھوپیائی عورت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی مالی حالت اتنی پتلی ہوچکی تھی کہ وہ اپنے نومولود بچے کو فروخت کرنے پر تیار ہوگئی تھی۔ اب وہ زیر حراست ہے اور اپنی سزا کے خلاف 15 روز میں اپیل دائر کرسکتی ہے۔البتہ اس سے شادی سے ماور ا ناجائز جنسی تعلق استوار کرنے والا اماراتی شخص مفرور ہے اور اس کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ۔