.

ڈنمارک : خاتون پولیس اہلکار کے خلاف نقاب پوش خاتون سے گلے ملنے کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈنمارک میں پولیس نے اپنی ایک خاتون اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہے۔اس خاتون پولیس اہلکار کا قصور یہ ہے کہ اس نے دارالحکومت کوپن ہیگن میں گذشتہ ماہ چہرے کے نقاب پر حکومت کی جانب سے عاید کردہ پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران میں انسانی ہمدردی کے جذبے سے مغلوب ہوکر ایک نقاب پوش خاتون کو گلے سے لگا لیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائیٹرز کے فوٹو گرافر نے یکم اگست کو پیش آئے اس واقعے کی تصاویر بنا لی تھیں۔ان میں نقاب پوش خاتون ڈنمارک بھر میں عوامی مقامات پر مسلم خواتین کے چہرے کے نقاب اوڑھنے پر عاید کردہ پابندی کے خلاف احتجاج کے دوران میں روتی ہوئی نظر آرہی تھیں اور انھیں اس خاتون اہلکار نے بظاہر دلاسا دینے کی کوشش کی تھی ۔

ملک کی حکمراں لبرل جماعت وینسترے کے ایک لیڈر مارکس کنتھ کا کہنا ہے کہ ’’اس تصویر نے پولیس کو غیر رضاکارانہ طور پر ایک بہت ہی حساس نوعیت کی سیاسی بحث میں الجھنے پر مجبور کردیا ہے‘‘۔

ان صاحب اور دوسرے ناقدین نے پولیس کی توجہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان تصاویر کی جانب دلائی تھی اور اس خاتون اہلکار کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ پولیس کا کام قانون کا نفاذ ہے ، یہ نہیں کہ وہ قانون کی مخالفت کرنے والوں ہی کے گلے ملنا شروع ہوجائے‘‘۔