.

مصری خاتون اداکار کچرے سے تیار کردہ لباس پہن کر فلم فیسٹول میں شریک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی خاتون اداکار سارہ عبدالرحمن نے "الجونہ فلم فیسٹول" کے حاضرین کو اُس وقت ورطہ حیرت میں ڈال دیا جب وہ کچرے کی باقایات اور ریسائیکلڈ مواد سے تیار شدہ لباس پہن کر ایونٹ میں پہنچ گئیں۔

سارہ نے جو کپڑے پہن رکھے تھے وہ پلاسٹک کی تھیلیوں سے ملتے جلتے مواد سے تیار کی گئے تھے۔ انہوں نے حاضرین کے سامنے اس امر کی تصدیق کی کہ ان کا لباس واقعتا کچرے کی باقیات سے تیار شدہ ہے۔

خاتون اداکار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ وہ الجونہ فیسٹول میں وہ 30 عدد ریسائیکلڈ پلاسٹک بیگز سے تیار شدہ لباس پہن کر نمودار ہوئیں۔ اس لباس کو کچرا ریسائیکل کرنے والی ایک مصری کمپنی میں کام کرنے والی مصری خواتین نے تیار کیا۔ یہ خواتین قاہرہ کے جنوب میں واقع ایک علاقے میں رہتی ہیں۔

سارہ کے مطابق انہوں نے مصر میں کچرے کے مسئلے کے حوالے سے آگاہی کے واسطے یہ لباس زین تن کیا۔ وہ اس حوالے سے شعور بیدار کرنا چاہتی ہیں کہ کچرے کو کس طرح ریسائیکل کر کے اس سے مستفید ہوا جا سکتا ہے اور اس سے فائدے مند اور خوب صورت قیمتی چیزیں تیار کی جا سکتی ہیں۔

سارہ عبدالرحمن نے بتایا کہ مصر سالانہ 12 ارب پلاسٹک بیگز تیار کرتا ہے۔ ان کو استعمال کرنے کے بعد پھینک دیا جاتا ہے۔ دھوپ میں پڑے رہنے کے سبب ان سے میتھین کا زہریلا مواد پیدا ہو سکتا ہے جو بہت سے امراض کا سبب ہے۔ ان بیگز کو سمندر میں پھینکے جانے کی صورت میں یہ مچھلیوں کی موت کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ سارہ کے مطابق اس مسئلے کا بہترین حل پلاسٹک بیگز کی ریسائیکلنگ اور ان کو دیگر مواد کی تیاری میں استعمال کرنا ہے۔

مصری خاتون اداکار نے بتایا کہ وہ "نوجوانوں اور عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے کوشاں ہیں تا کہ ماحول کے تحفظ کی ضرورت کا احساس پیدا ہو ،،، اور کچرے سے استفادہ کر کے اسے ریسائیکلنگ کے ذریعے اہم چیزیں تیار کی جا سکیں اور پھر انہیں برآمد کر کے قومی خزانے میں بڑی رقوم حاصل کی جائیں"۔