.

’الضباب‘ سعودی عرب کا شہر جس نے مؤرخین کو بھی حیران کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں جہاں چٹیل میدان اور بے آب وگیاہ وادیاں پائی جاتی ہیں وہیں ایسے سرسبزو شاداب، قدرتی حسن سے مالا مال آبشاروں اور سال بھر جاری رہنے والے چشموں اور قدرتی وسائل سے بھرپور شہربھی موجود ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے سعودی عرب کے ایک ایسے ہی تاریخی، سیاحتی اور قدرتی وسائل و فطری حسن سے مالامال علاقے کا تفصیلی تعارف پیش کیا ہے۔

مقامی سطح پر اسے ’مدینۃ الضباب‘ یعنی دھند کا شہر کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ شہرعسیر کے علاقے سے متصل ’تنومہ‘ گورنری میں واقع ہے۔ اس شہر میں سال بھر پانی کی آبشاری اور چشمے جاری رہتے ہیں۔جنوب مغربی سعودی عرب میں تنومہ کاعلاقہ نہ صرف قدرتی حسن بلکہ اپنے تاریخی مقامات کی وجہ سے بھی شہرت رکھتا ہے۔ مستقبل میں یہ سیاحت اور اقتصادیات کا ایک نیا مرکز بن سکتا ہے۔

جغرافیائی محل وقوع کےاعتبار سے الضباب شہر کے اطراف میں جبال السروات کا پہاڑی سلسلہ ایک فصیل کی شکل میں موجود ہے۔ طائف اور ابھاء کو ملانے والی شاہراہ پر واقع یہ شہر ابھا کے شمال میں 125 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ قدرتی مناظر، پہاڑوں، سبزے اور پانی کی نہروں کی وجہ سے یہاں کا موسم معتدل رہتا ہے۔ ویسے تو یہ سارا شہر قدرتی حسن کا شاہکار ہے مگر اس میں 15 ایسے مقامات ہیں جنہیں عالمی سطح کی سیرگاہیں قرار دیا گیا ہے۔ اس کے تاریخی مقامات میں ایک ’وادی ترج‘ کہلاتی ہے جو جزیرۃ العرب کی مشہور اور بڑی وادیوں میں سے ایک ہے۔

کاشت کاری اور کھیتی باڑی یہاں کا خاص پیشہ ہے۔ لوگ یہاں انواع اقسام کے پھل کاشت کرتے، سبزیاں اور فصلیں اگاتے ہیں۔

وادیاں اور زراعت

مورخین بھی ’تنومہ‘ کی تاریخ پر روشنی ڈالے بغیر نہیں رہ سکے۔ تنومہ کے آثارقدیمہ، تاریخ اور دیگر امتیازی خصوصیات مورخین کی توجہ کا مرکز رہیں۔ مشہور عرب مورخ الھمدانی نے اپنی کتاب’صفۃ جزیرۃ العرب‘ اور حافظ وھبی نے کتاب’جزیرۃ العرب بیسویں صدی میں‘ میں تنومہ کے جغرافیائی اور طبعی حالات پر روشنی ڈالی۔ ان دونوں مورخین نے تنونہ اور ضباب شہر کوزرخیز شہر قرار دیا۔ اس کی وادیوں، گھاٹیوں اور چشموں اور اس میں اگائے جانے والی فصلوں اور پھلوں کا بھی تذکرہ کیا ہے۔

اس کی مشہور وادیوں میں وادی تیرس جو دوسری وادیوں سے لمبی ہے۔ اس کے علاوہ وادی المطعن، وادی ملیح اور وادی تنومہ مشہور وادیاں ہیں۔ ویسے اس میں کئی چشمے اور نہریں بہتی ہیں ان میں دبول نامی نہراپنی خوبصورتی کی جہ سے زیادہ مشہور ہے۔ یہ نہر اپنے آس پاس کے کھیتوں کو سیراب کرنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔

تاریخی آثار

الضباب شہر جہاں قدرتی وسائل سے مالا مالا ہے وہیں اس میں کئی ایک تاریخی مقامات بھی موجود ہیں جس سے اس شہر کی شان وشوکت میں اور بھی اضافہ ہوگیا۔

ان تاریخی مقامات میں جبل عکران کی چوٹی پر ایک تاریخی مسجد ہے۔ اس مسجد کے بارے میں خیال ہے کہ یہ اس کی بنیاد زمانہ قدیم میں رکھی گئی تھی اور اس میں صرف ایک شخص کو ایک ہی وقت میں داخل ہونے کی اجازت تھی۔ مسجد کی چھت نہیں مگر دو محراب ہیں۔ اس کی دیواروں پر پرانے دور کی خطاطی اور عبارات کندہ دیکھی جاسکتی ہیں۔

پرانی عمارتوں میں یہاں کے قلعے بھی قابل ذکر ہیں۔ الضباب کے قلعے اپنی بناوٹ، پختگی، خوبصورت ڈیزائن اور کئی دیگر امتیازی خصوصیات کے حامل ہیں۔ ان کی خوبصورتی کا ایک پہلو ان کی چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں ہیں۔ تنومہ اور تہامہ کی سرزمین میں اس طرح کے بیشتر قلعے عثمانی دور کی یاد گاریں ہیں۔ بعض ان سے ببھی پرانے ہیں۔ پرانے دور کے مصنوعی ٹیلے جنہیں پتھر اور گارے سے بنایا گیا تھا چار صدیاں گذرنے کے بعد بھی اپنی جگہ پرقائم ہیں۔

الضباب کی ایک خصوصیت یہاں کی غاریں ہیں۔ جبل منعاء کے اطراف میں ایسی کئی غاریں، پانی کے کنوئیں، پرانی قبریں اور پرانے زمانے کی تیار کردہ عمارتیں آج بھی شہر کی عظمت رفتہ کی گواہی دیتی ہیں۔