.

قطر کس طرح امریکا کی سرکردہ شخصیات کی سائبر جاسوسی کرتا رہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی دوستوں سمیت 1200 سے زیادہ امریکیوں ، یورپی ممالک کے انسداد دہشت گردی کے حکام ، عرب رہ نماؤں ، فٹ بال کے بین الاقوامی کھلاڑیوں اور بالی ووڈ کی اداکاراؤں کی برقی مراسلت میں نقب زنی کی ہے۔

اس بات کا انکشاف قانونی دستاویزات ، ٹیکنیکل رپورٹوں اور امریکا کی مرکزی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق اہلکاروں کے بیانات سے ہوا ہے۔ قطر نے چار براعظموں شمالی امریکا ، یورپ ، افریقا اور ایشیا سے تعلق رکھنے والی سرکردہ شخصیات کی ای میلز ہیک کی ہیں ۔یہ خیال کیا جاتا ہے کہ برقی مراسلت میں نقب زنی کی یہ سب سے بڑی واردات ہے۔

قطری ہیکروں نے اس واردات کا آغاز 2014ء میں کیا تھا اور گذشتہ چار سال کے دوران میں انھوں نے قطر کے ایک ہزار سے زیادہ مزعومہ دشمنوں کی ای میلز ہیک کی ہیں۔سی آئی اے کے ایک ذریعے نے العربیہ انگلش سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ثبوت امریکا کی قطری سائبر حملے کے خلاف تحقیقات میں مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔

امریکا کی حکمراں جماعت ری پبلکن پارٹی کے مالی امور کے ایک ذمے دار ایلیٹ برائیڈی نے کچھ عرصہ قبل قطر سے تعلق رکھنے والے ایجنٹوں پر اپنی ذاتی ای میل کو ہیک کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔ایلیٹ برائیڈی ری پبلکن نیشنل کمیٹی کے ڈپٹی فنانس چئیرمین ہیں ۔انھوں نے الزام عاید کیا تھا کہ ان کی ای میل کو ہیک کر لیا گیا اور اس میں سے دستاویزات کے تین سیٹ حاصل کرکے امریکی میڈیا کے ذرائع کو تقسیم کر دیے گئے تھے۔

انھوں نے واشنگٹن میں متعیّن قطری سفیر کو ایک خط لکھا تھا اور اس میں قطر پر الزام عاید کیا تھا کہ اس نے ’’ میز کے نیچے سے غیرملکی ایجنٹوں ‘‘ کو رقوم ادا کی تھیں۔انھوں نے لکھا تھا کہ ’’ مجھے اور میرے ساتھ کام کرنے والے افراد نے ان امریکی شہریوں اور غیرملکی ایکٹروں کا پتا چلا لیا ہے جن کی آپ کی حکومت نے خدمات حاصل کی تھیں اور انھیں ان کارروائیوں کی ہدایت کی تھی‘‘۔

امریکا کے ایک سابق سفیر اور وکیل لی ولووسکی نے حال ہی میں ایک عدالت میں درخواست دائر کی ہے اور اس میں کہا ہے کہ مسٹر برائیڈی ہوم لینڈ سکیورٹی کی مشاورتی کونسل میں 2006ء سے 2009ء تک کام کرچکے ہیں۔انھوں نے خاص طور پر دہشت گردی ٹاسک فورس کے مستقبل پر کام کیا تھا۔

مسٹر ولووسکی نے اپنی درخواست میں اس ٹاسک فورس کا ایک حوالہ دیا ہے جس میں دہشت گرد تنظیموں کی معاونت ، انھیں پناہ اور تحفظ مہیا کرنے والے ممالک کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان ممالک میں قطر بھی شامل تھا۔قطر نے مبینہ طور پر مسٹر برائیڈی کو خاموش کرانے کی کوشش کی تھی کیونکہ وہ قطر کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت کے سخت خلاف تھے۔

کیلی فورنیا کی ایک سنٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ میں قطر ی ہیکروں کی سرگرمیوں سے متعلق ریکارڈ پیش کیا گیا تھا۔اس کے مطابق انھوں نے قریباً 1200 شخصیات کو امریکا کے اندر اور باہر اپنے سائبر حملوں کا ہدف بنایا تھا۔سی آئی کے ایک عہدہ دار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ ’’جب امریکا کی قومی سلامتی کا معاملہ آتا ہے تو پھر ثبوت سے زیادہ ذریعہ اہمیت کا حامل ٹھہرتا ہے‘‘۔

وولوسکی کا کہنا ہے کہ انھیں اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ اس سائبر حملے کے پیچھے قطر کا ہاتھ کارفرما ہے کیونکہ اس کارروائی کا دائرہ کار تو عام افراد کی صلاحیتوں سے ماورا ہے۔اس طرح کا کام صرف کوئی حکومت ہی کرسکتی ہے۔

امریکی کانگریس کے مشرقِ اوسط کی پالیسی سے متعلق مشیر آرون کیاک نے العربیہ انگلش سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ ، قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اور محکمہ خارجہ کو دوحہ کی جاسوسی کی سرگرمیاں رکوانے کے لیے ایک سخت پیغام بھیجنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ سائبر حملے سے اندازہ ہوتا ہے کہ قطر کس سطح کا سفاک ملک ہے اور وہ عالمی برادری کے ساتھ اس طرح کا کھیل کھیلنے پر آمادہ ہے‘‘۔عدالتی دستاویز کے مطابق ریاستِ قطر کے علاوہ بعض شخصیات بھی جاسوسی کی سرگرمیاں میں ملوّث ہیں ۔ان میں امیر قطر شیخ تمیم کے چھوٹے بھائی محمد بن خلیفہ آل ثانی پیش پیش تھے۔ وہ امریکا کی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لیے برپا کردہ مہم کے سربراہ تھے۔ان کا مقصد قطر کے خلاف بلند ہونے والی آوازوں کو خاموش کرانا تھا۔

قطری ہیکروں نے اپنے اہداف کو جھانسا دینے کے لیے مندرجہ ذیل ای میل اکاؤنٹس کو استعمال کیا تھا:
• donotreply.bbcnews@gmail.com
• mymail.securealerts@gmail.com
• noreply.servicealerts@gmail.com
• noreply.secureservicealerts@gmail.com
• noreply.user.secure.services@gmail.com
• no_reply_securetermservices@gmail.com
• estertoor@gmail.com
• estertoor1@gmail.com
• estertoor10@gmail.com

کیلی فورنیا میں گذشتہ ماہ ایک وفاقی جج نے اس کیس کو خود مختارانہ استثنا کی بنیاد پر مسترد کردیا تھا ۔ تاہم برائیڈی اور وولوسکی کا کہنا ہے کہ ’’یہ کیس ابھی ختم نہیں ہوا ہے ۔ہم امریکا کی عدالتوں میں اس سائبر حملے کے ذمے داروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی جاری رکھیں گے‘‘۔