.

خبردار! نیند کی کمی موت کا سبب بھی بن سکتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک جدید طبّی تحقیق میں یہ بتایا گیا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر نیند کی کمی جسم اور دماغ کے لیے بڑے مسائل کا سبب بن سکتی ہے اور آخر کار اس کا نتیجہ انسان کی وفات کی صورت میں بھی سامنے آ سکتا ہے۔

انگریزی ویب سائٹ Business Insider کی جانب سے جاری رپورٹ میں کئی سائنسی اور طبّی تحقیقی مطالعوں کی بنیاد پر بتایا گیا ہے کہ بالغ شخص کو روزانہ سات سے نو گھنٹے کی نیند لینا ضروری ہے۔ بچوں کو اس سے زیادہ دورانیے کے لیے سونا چاہیے۔ اگر کوئی شخص کسی بھی وجہ سے مذکورہ دورانیے سے کم سوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اُس کے جسم اور دماغ کو ایسی بربادی اور بیماریوں کا خطرہ درپیش ہے جن سے بالآخر اُس کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

طبّی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ نیند کی کمی یا سونے میں بے قاعدگی کا کئی امراض کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ ان امراض میں سرطان بالخصوص قولون اور چھاتی کا سرطان شامل ہے۔

علاوہ ازیں نیند کی کمی یا نیند کے بار بار ٹوٹنے کا نتیجہ انسان کی خراب جلد کی عدم صحت یابی کی صورت میں نکلتا ہے کیوں کہ جسم کو مطلوبہ راحت میسر نہیں آتی۔ آخرکار یہ انسان کو بڑھاپے کی جانب کھینچ کر لے جاتا ہے۔

امریکا کی "وِسکنسن" یونی ورسٹی کی تحقیق کے مطابق نیند کی کمی انسانی جلد اور کھال سے متعلق بہت سی بیماریوں اور مسائل کا باعث ہے۔ اس سے انسان کا وزن بھی بڑھ جاتا ہے۔

دیگر تحقیقی مطالعوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیند کی کمی کا شکار افراد اکیلے پن کے احساس سے بھی دوچار ہوتے ہیں۔ وہ سماجی تعلقات قائم کرنے اور دوسروں سے رابطہ رکھنے کے خواہش مند نہیں ہوتے۔

ایک اور تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ طویل عرصے تک نیند کی کمی کے نتیجے میں انسانی یادداشت کے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ انسان کی یادداشت سے معلومات حاصل کرنے کی قدرت متاثر ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بعض طلبہ جو پڑھائی کے لیے شب بیداری کرتے ہیں، ان کا یہ عمل علمی تحصیل کے حوالے سے بہتری نہیں لا سکتا بلکہ یہ طالب کے لیے اس کی تعلیم اور امتحانات میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔