.

بھارت میں ماضی کی یادگار ’عرب کی سرائے ‘کی اصل حالت میں بحالی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ عرب تجارت یا اسلام کی تبلیغ یا پھر ان دونوں کامو ں یا علم کے حصول کے لیے ملکوں، ملکوں جایا کرتے تھے۔ان اسفار کے دوران میں انھیں دیہات اور قصبوں میں رہنے کے لیے عام مگر آزادانہ حیثیت کی حامل جگہیں درکار ہوتی تھیں۔

عربوں کے یہ قدیم صحرائی قافلے خاص طور پر تعمیر کردہ کارواں سراؤں میں قیام کیا کرتے تھے۔اہلِ عرب ہندوستان میں بھی تجارت کی غرض سے آیا کرتے تھے اور انھیں اپنے قیام کے لیے اس طرح کی عام سراؤں کی ضرورت ہوتی تھی۔

ہندوستان بھر میں ایسی بہت سی عام سرائیں قائم تھیں لیکن اب ان میں سے چند ایک ہی کے آثار ملتے ہیں۔بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایسی صرف ایک سرا ئے کے آثار ملتے ہیں۔ یہ ’عرب کی سرائے‘ کے نام سے معروف تھی اور متھرا روڈ پر مغل بادشاہ ہمایوں کے مقبرے کے احاطے میں واقع ہے۔یہ پہلے بہت خستہ حالت میں تھی۔ ہمایوں کا یہ مقبرہ 1560ء میں تعمیر کیا گیا تھا اور یہ ہندوستان میں اسلامی فن تعمیر کا ایک شاہکار ہے۔

آغا خان ٹرسٹ برائے ثقافت نے حال ہی میں عرب سرائے کی اپنی اصلی حالت میں اور اس کی عظمتِ رفتہ کے مطابق بحالی کا کام کیا ہے۔آغا خان ٹرسٹ ترقی پذیر ممالک میں کمیونٹیوں کی مادی ، سماجی ، ثقافتی اور اقتصادی بحالی کے منصوبوں پر کام کرتا ہے۔عرب کی سرائے کو سترھویں صدی میں حمیدہ بیگم نے تعمیر کرایا تھا اور بحالی سے قبل سڑک کنارے اس کی عمارت خستہ حالت میں تھی۔

اس عمارت کی مشرقی بند چار دیواری بھی سترھویں صدی میں بنائی گئی تھی۔قبل ازیں اس کو جہانگیر کے زمانے میں عرب کی سرائے کے ساتھ ایک بازار کے طور پر بنایا گیا تھا۔اس کے مشرقی حصے نظام الدین کو بھی ماضی کی عظمت رفتہ کے مطابق بحال کردیا گیا ہے۔عرب کی سرائے کے 13 میٹر اونچے پانچ محرابی دروازے ہیں۔درمیان میں اس کا بڑا گنبد ہے اور یہ بھی مغل دور کی تعمیرات کے عین مطابق ہے۔دیواروں پر ٹائلیں لگائی گئی ہیں،ان پر قرآنی آیات کندہ ہیں اور پچی کاری ہوئی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کی عمارت خستہ حال ہوچکی تھی اور جنگلی گھاس اور جڑی بوٹیوں نے اس کا حلیہ ہی بگاڑ دیا تھا۔

آغا خان ٹرسٹ نے 2017ء میں اس عمارت کی بحالی کا کام شروع کیا تھا۔ ٹرسٹ کی ماہر تعمیرات عجوالا مینن بتاتی ہیں کہ عمارت میں دراڑیں پڑ جانے سے پانی نے جگہ جگہ اپنا کام دکھا دیا تھا اور اس پر کندہ آیات سیمنٹ پلاسٹر کی تہ کے نیچے چھُپ چکی تھیں ۔ٹائلیں غائب ہوچکی تھیں اور داخلی دروازے کی چھت کا ایک حصہ گر چکا تھا۔

انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نفاست سے کیے گئے پچی کاری کے کام کو بحال نہیں کیا جاسکا ہے۔ان کے بہ قول 1960ء کے عشرے میں بعض اخبارات نے اس امر کی نشان دہی کی تھی کہ اس سرائے کی دیواریں تصویروں اور خوب صورت پچی کاری سے مزیّن تھیں لیکن انھیں بحال نہیں کیا جاسکا ہے۔

تاریخ کے اوراق سے یہ پتا چلتا ہے کہ عرب کی سرائے کے جنوبی داخلے دروازے کے ساتھ بلند راہداری کو تین سو ہُنر مندوں کو ٹھہرانے کے لیے بنایا گیا تھا ۔ان ہُنر مندوں کو حمیدہ بانو بیگم مکہ مکرمہ سے سفر حج کی واپسی پر اپنے ساتھ لائی تھیں۔اب بحالی کے بعد یہ حصہ خوب صورت دکھائی دیتا ہے۔

ٹرسٹ کے منصوبے کے تحت لکڑی کے مرکزی دروازے ، پتھر کے بیرونی حصے ، داخلی دیوان اور زیریں حصے میں ایوانوں کو بحال کیا گیا ہے۔

تاریخ کے اوراق سے

مصنف مرزا سنگین بیگ نے 1820ء میں فارسی میں لکھی گئی اپنی کتاب ’سیر المنازل‘ میں اس سرائے کو عربوں اور عام لوگوں کی جائیداد قرار دیا ہے۔

مصنف رانجن کمار سنگھ اپنی کتاب ’’دہلی کی اسلامی یادگاریں‘‘ میں لکھتے ہیں کہ عرب کی سرائے ہمایوں کے مقبرے کے جنوب مغرب کی سمت واقع ہے ۔اس کا صحن دو حصوں میں منقسم ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سلسلہ وار کوٹھڑیاں ہیں اور ان کے درمیان میں ایک راستہ ہے۔ اس کے مشرق میں واقع داخلی سمت دوسرا صحن ہے اور یہ دونوں اطراف کوٹھڑیوں میں گھرا ہوا تھا اور بازار ( منڈی) کہلاتا تھا۔ میر بانو آغا نے اس بازار کا سرائے کی اصل عمارت میں اضافہ کیا تھا۔