.

فربہ اندام ماؤں کے بچوں کو جگر کے امراض اور موٹاپے کا خطرہ زیادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ایک جدید طبّی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ شیر خوار بچّے جن کی پیدائش فربہ جسامت رکھنے والی ماؤں کے ہاں ہوئی ،،، اُن کو جگر کے امراض اور موٹاپے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

یہ تحقیق امریکا کی کولورادو یونیورسٹی کے طبّی محققین نے کی۔ اس کے نتائج سائنسی جریدے (Nature Communications) کے آخری شمارے میں شائع ہوئے ہیں۔

محققین کے مطابق بچپن کے مرحلے میں موٹاپے کو ایک عالمی وبا شمار کیا جاتا ہے۔ اس دوران یہ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ آج کل پیدا ہونے والے بچوں میں سے 57% کو 35 سال کی عمر میں موٹاپے کا سامنا ہو گا۔ یہ شرح ماؤں میں فربہ اندامی کے تناسب کے قریب ہے جو 40% تک پہنچا ہوا ہے۔

مذکورہ تحقیق کے لیے محققین نے بچوں کا ایک مجموعہ لیا جن کی اوسط عمر دو ہفتے تھی۔ اس مجموعے کو دو گروپوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ ایک گروپ ان بچوں کا تھا جن کی پیدائش فربہ ماؤں کے ہاں ہوئی تھی جب کہ دوسرے گروپ میں وہ بچّے تھے جن کی پیدائش نارمل وزن کی حامل خواتین کے ہاں ہوئی۔

محققین کی ٹیم کے سربراہ ٹیلر سوڈربورج کے مطابق "یہ پہلی تحقیق ہے جو اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ فربہ ماؤں کے ہاں پیدا ہونے والے شیر خوار بچوں میں پیدائش کے فورا بعد ہی آنتوں کے جرثوموں کا آغاز ہو جاتا ہے۔ آنتوں میں رہنے والے یہ جرثومے بچوں کی آنتوں کے اندر انفیکشن اور دیگر تبدیلیوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں زندگی میں آگے چل کر موٹاپے اور Nonalcoholic fatty liver (جگر کا مرض) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے"۔

واضح رہے کہ Nonalcoholic fatty liver اس وقت دنیا کی ایک چوتھا انسانی آبادی کو متاثر کر رہا ہے ،،، اور صرف امریکا میں ہی اس مرض پر سالانہ 32 ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔

یہ مرض زیادہ تر موٹاپے کا شکار افراد میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ذیابیطس اور کولسٹرول کی بلند سطح کے حامل افراد بھی اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ نہایت چکنائی والی اور روغنی غذا کھانا ہے جس میں فاسٹ فوڈ سرفہرست ہے۔

اس مرض کا نتیجہ صحت کے حوالے سے خطرناک مسائل کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اس میں بعض مرتبہ بچوں کا جگر بے کار ہو جاتا ہے اور اس کا انجام جگر کا سرطان یا پھر جگر کا ناکارہ ہونا ہے۔