.

سوڈان میں ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے والی پہلی خاتون کی گاڑی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں 1945ء میں ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے والی پہلی خاتون کا نام آمنہ عطیہ تھا جنہوں نے انگریز سامراج کے دور میں یہ لائسنس ملا۔ آمنہ نے ہی سوڈانی خواتین میں سب سے پہلے اسلحہ استعمال کرنے کا لائسنس بھی حاصل کیا۔

کچھ عرصہ قبل سوڈان میں سوشل میڈیا پر 1938ء کے ماڈل کی ایک گاڑی کی تصویر زیر گردش آئی جو فروخت کے لیے پیش کی گئی تھی۔ اس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ وہ پہلی گاڑی ہے جس کو آمنہ عطیہ نے استعمال کیا تھا۔ گاڑی کی تاریخی حیثیت کی بنا پر اس کی قیمت 60 ہزار ڈالر رکھی گئی۔

آمنہ عطیہ سوڈان کے شہر سنار کے شمال میں واقع علاقے کرکوج میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ایک مصری کسان تھے جو سامراج کے قبضے کے بعد سوڈان پہنچے تھے۔

آمنہ نے خرطوم میں ٹیچرز کالج میں داخلہ لیا۔ وہ 1950ء میں وہاں سے فارغ التحصیل ہوئیں جس کے بعد انہوں نے تدریس کے شعبے میں کام کیا۔ آمنہ نے جب گاڑی چلانا شروع کی تو ان کی عمر بیس برس سے کم تھی۔

وہ اپنے پیشے کے سلسلے میں سنجہ اور سنار شہر کے درمیان منتقل ہوتی رہیں اور پھر ودمدنی شہر لوٹ آئیں اور وہاں لڑکیوں کے لیے ایک اسکول کھولا۔ بعد ازاں آمنہ خرطوم میں سکونت پذیر ہوئیں اور پھر اپنی وفات تک اسی شہر میں رہیں۔

آمنہ کے ڈرائیونگ لائسنس کے حوالے سے واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے جب برطانوی حکام سے لائسنس طلب کیا تو اس وقت وہ سوڈان کے وسطی علاقے الجزیرہ میں سرکاری اسکولوں میں کام کر رہی تھیں۔ ان کا مقصد لائسنس حاصل کر کے ان اسکولوں کے درمیان اپنی نقل و حرکت کو آسان بنانا تھا۔

آمنہ کے سابقہ انٹرویوز کے مطابق برطانوی حکام فوری طور پر انہیں لائسنس دینے پر آمادہ ہو گئے جب کہ عطیہ کو ڈرائیونگ سیکھنے میں صرف ایک ہفتہ درکار ہوا۔

آمنہ کو 1956ء میں سوڈان کی آزادی کے بعد سیاسی حلقوں کے نزدیک ہونے کا موقع ملا۔ وہ صف اول کی سیاسی شخصیات کے قریب رہیں جن میں سوڈان کے پہلے وزیراعظم اسماعیل الازہری شامل ہیں۔

آمنہ نے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے بعد کرکوج گاؤں سے دارالحکومت خرطوم تک سیکڑوں کلو میٹر کا سفر گاڑی کے ذریعے طے کیا۔ اس دوران اپنی حفاظت کے واسطے انہوں نے اسلحہ ساتھ رکھا ہوا تھا۔ یہ "نسوانی شجاعت" کا ایک ایسا نمونہ تھا جس کی نظیر اُس زمانے میں نہیں ملتی۔ وہ سوڈان میں خواتین کے حقوق کے دفاع کے واسطے بھی سرگرم رہیں۔ آمنہ عطیہ 3 اپریل 2014ء کو وفات پا گئیں۔ ان کی عمر نوے برس کے قریب تھی اور وہ زندگی کے آخری سالوں کے دوران بھی میڈیا سے بات چیت کرتی رہیں۔