.

سعودی عرب : پرائمری مرحلے میں املا اور خوش خطی کے نصاب کی واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں وزیر تعلیم ڈاکٹر احمد بن محمد العيسى کی جانب سے مملکت میں تیسری جماعت سے پرائمری مرحلے کے نصاب میں ایک بار پھر اِملا اور عربی خوش خطی کے مضامین کو شامل کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس اعلان کے بعد متعدد ماہرین تعلیم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مذکورہ مضامین کی واپسی پرانے طریقے پر نہیں ہونا چاہیے جس کا کوئی فائدہ نہ ہوا بلکہ نئے نصاب کا اطلاق مملکت کے ویژن 2030 پروگرام سے مطابقت کی صورت میں کیا جانا چاہیے۔

ماہر تعلیم اور خوش نویس سلیمان الفائز نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے باور کرایا کہ "پرائمری مرحلے میں خوش خطی اور املا کے نصاب کی واپسی ایک مثبت اقدام ہے جو اس یقین کے ساتھ عمل میں لایا جا رہا ہے کہ یہ ایک ضرورت ہے۔ اگر املا کے مضمون کی تدریس سابقہ نہج پر کی گئی تو اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہو گا۔ لہذا حل یہ ہے کہ املا کے مضمون کو صوتی طور پر الفاظ کے ساتھ مربوط کیا جائے۔ اس کے لیے صوتیات کے شعبے کے ماہرین کا تعاون حاصل کیا جائے۔ اس سلسلے میں صرف لکھنے پر انحصار نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ الفاظ کے مخارج اور ادائیگی کو واضح طور پر نمایاں کیا جائے"۔

عربی خوش خطی کے مضمون کے حوالے سے الفائز کا کہنا تھا کہ "لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ خوش نویسی خداداد ہوتی ہے اور اس میں خود سے مہارت حاصل نہیں ہو سکتی۔ اصل بات یہ ہے کہ عربی خوش خطی نقل ہے اور اس کے لیے خوش خطی کی مشق کی خصوصی کاپیاں ہونی چاہئیں۔ اس سلسلے میں پرائمری مرحلے کے اساتذہ کے اندر مطلوبہ اہلیت اور استعداد ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے بھرپور اور مضبوط پروگرام ترتیب دینا چاہئیں۔ ان امور کے بغیر نصاب کی واپسی محض خانہ پری ہو گی اور عملی تربیت کی صورت اختیار نہیں کر سکے گی"۔

الفائز کے مطابق عربی خوش خطی کی ڈرائنگ بک کو خطاطوں نے تیار کیا تھا اور بعد ازاں انہوں نے عربی خوش خطی کے اصول بھی وضع کیے۔ تاہم ماہرین تعلیم نے اس سلسلے میں اپنا حصہ نہیں ڈالا کہ طالب علم کو ان امور کی آگاہی کس طرح پہنچائی جائے۔ الفائز کا یہ بھی کہنا تھا کہ خوش خطی کی تدریس میں لا محالہ طالب علم کی عمر کو مد نظر رکھا جانا چاہیے اور اس کا نصاب مرتب کرنے میں خوش نویسوں اور ماہرین تعلیم دونوں کو مشترکہ طور پر کام کرنا چاہیے۔