.

’’ہیکل سلیمانی‘‘ سے متعلق یاسر عرفات کا انکشاف ان کے قتل کا باعث بنا

’’ابو عمار نے یہودی تاریخ اور ثقافت کو جھٹلایا ہے، ایسا شخص زیادہ دیر ہمارے درمیان نہیں رہ سکتا’’

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تنظیم آزادی فلسطین ’’پی ایل او‘‘ کے سربراہ اور سرکردہ فلسطینی رہنما یاسر عرفات سمجھتے تھے کہ’’یہودیوں کے لئے مقدس سمجھا جانے والا ’ہیکل سلیمانی‘ یروشیلم میں نہیں، بلکہ یمن میں واقع تھا۔ یاسر عرفات کا یہی اعتماد اور یقین ان کے قتل کے باعث بنا۔‘‘

اس امر کا انکشاف فلسطینی رہنما حسن عصفور نے العربیہ نیوز چینل کے فلیگ شپ پروگرام ’’سیاسی یادداشتیں‘‘ میں سینئر اینکر پرسن طاہر برکہ کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ حسن عصفور کا شمار سرکردہ ان فلسطینی رہنماوں میں ہوتا ہے جو ’’معاہدہ اوسلو‘‘ کے وقت فلسطین کاز کے چیمپیئن سمجھے جاتے تھے۔

طاہر برکہ کے ایک سوال کے جواب میں حسن عصفور نے انکشاف کیا کہ ایک مرحلے پر یاسر عرفات نے معاہدہ اوسلو پر مذاکرات میں شامل ایک اسرائیلی عہدیدار کو بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ یہودی جس ٹیمپل ماونٹ [ہیکل سلیمانی] پر سیادت کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہ یروشلیم کے بجائے یمن میں واقع ہے۔

حسن عصفور نے بتایا کہ یاسر عرفات نے القدس پر سیادت کا اسرائیلی مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا ’’کہ امن کی خاطر میں آپ کو یروشیلم کے بجائے غرب اردن کے شہر نابلس میں یہودی معبد بنانے کی اجازت دے سکتا ہوں چونکہ اس وقت یہودی یروشیلم میں نہیں بلکہ یمن میں آباد تھے۔‘‘

حسن عصفور نے انٹرویو میں بتایا کہ یاسر عرفات کا یہ جواب سن کر اسرائیلی عہدیدار شلومو بن عمی اور آمون شاحاک نے جو جو ردعمل بتایا وہ یہ تھا کہ ’’تم [عرفات] نے ہماری تاریخ اور ثقافت کو جھٹلایا ہے۔ ایسا کرنے والا ہمارے درمیان زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتا۔‘‘

فلسطینی رہنما حسن عصفور کے بقول یاسر عرفات کے یہ الفاظ ان کے قتل کی شروعات ثابت ہوئے۔ انہوں نے یہ بات انتہائی تیقن کے ساتھ دہرائی کہ اس بات سے قطع نظر کہ یاسر عرفات کو کیسے قتل کیا گیا، تاہم مجھے اس بات کو بلا خوف تردید کہنے میں کوئی باک نہیں کہ تنظیم آزادی فلسطین کے رہنما کو قتل کیا گیا۔

حسن عصفور نے یاسر عرفات پر اس معاملے پر بعد میں جو گفتگو کی اس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ابو عمار کا ایک مکالمہ نقل کیا جس کے ان کا کہنا تھا کہ ’’میں [یاسر عرفات] ٹیمپل ماونٹ پر اسرائیلیوں کو سیادت نہیں دے سکتا کیونکہ وہ بعد ازاں اسے مسمار کر کے وہاں یہودی معبد تعمیر کر لیں گے کیونکہ پی ایل او کے تیونس دفتر میں فلسطینی اتھارٹی کے حکام کو یہودی حکام نے جو تصویر دکھائی تھی اس میں مسجد اقصیٰ کی جگہ یہودی معبد دکھایا گیا تھا۔‘‘

القدس میں ضم کئے جانے والے مشرقی یروشیلم کے علاقے میں دیوار گریہ کو یہودی مقدس مقام خیال کرتے ہیں اور یہودیوں کو اس مقام پر اپنے دینی شعائر ادا کرنے کی اجازت ہے۔

یہودی عقیدےکے مطابق متذکرہ مقام پر ان کا دوسرا بابلی معبد تھا جسے سن 70 بعد از وفات حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں گرایا گیا۔ مغربی دیوار اسی معبد کی باقیات ہے۔

مسلمانوں اس جگہ کو مکہ اور مدینہ کے بعد تیسرا مقدس مقام سمجھتے ہیں جہاں الحرم الشریف،مسجد اقصیٰ [قبلہ اول] اور مقدس پہاڑی کا گنبد واقع ہے۔