شاہ سلمان کی ہدایت پر مسجد قباء کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کے انتظامات مکمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی خصوصی ہدایت پر عمل درامد کرتے ہوئے مملکت میں اسلامی امور اور دعوت و ارشاد کے وزیر عبداللطیف آل الشیخ نے مدینہ منورہ میں واقع مسجد قبا کو چوبیس گھنٹے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان متعلقہ اقدام کے لیے مطلوب تیاریوں کے پورے کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

مسجد قبا کو تاریخ اسلام کی پہلی مسجد ہونے کی بنا پر سیرت نبوی میں خصوصی فضیلت حاصل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتے کے روز مسجد قبا پہنچ کر وہاں نماز ادا فرماتے تھے۔ مدینہ منورہ کے لوگ آج بھی اس سنت پر عمل پیرا ہیں۔

خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے رواں سال ستمبر میں مسجد قبا کے دورے میں وہاں کے ناظمین کو ہدایت کی تھی کہ وہ مسجد کو دن اور رات کھلا رکھ کر یہاں آنے والوں کے لیے آسانی پیدا کریں۔

مدینہ منورہ کے گورنر شہزادہ فیصل بن سلمان نے مسجد قبا کی دیکھ بھال کے حوالے سے خصوصی توجہ دینے اور مسجد کو چوبیس گھنٹے کھولنے کو ممکن بنانے کے لیے مطلوبہ انتظامات مکمل کروانے پر خادم حرمین شاہ سلمان کا شکریہ ادا کیا۔

مسجد قباء کے 4 مینار اور 56 گنبد ہیں۔ مسجد کا کُل رقبہ 13500 مربع میٹر ہے۔ اس میں مسجد کی عمارت 5860 مربع میٹر پر مشتمل ہے۔ مسجد میں 20 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے۔ مدینہ منورہ کی انتظامیہ ایک بار پھر مسجد کی توسیع کے کام کا آغاز کر رہی ہے جس کے بعد اس عظیم فضیلت کی حامل مسجد میں 55 ہزار افراد نماز ادا کر سکیں گے۔

ابو عبداللہ یاقوت الحموی نے اپنی کتاب معجم البلدان میں لکھا ہے کہ "قباء دراصل ایک کنوئیں کا نام ہے اور بنی عمرو بن عوف قبیلے کا گاؤں اسی نام سے جانا گیا۔ مسجد کا نام مسجد قباء اس لیے پڑا کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ جاتے ہوئے اس مقام سے گزرے تو یہاں ایک مسجد بنائی اور اس کو مسجد قباء کا نام دیا۔

مسجد نبوی شریف سے مسجد قباء کا فاصلہ 3.5 کلو میٹر ہے۔ درمیانی رفتار سے پیدل چلا جائے تو نصف گھنٹے میں مسجد نبوی سے مسجد قباء پہنچا جا سکتا ہے"۔

قباء اب مدینہ منورہ کا ایک نواحی علاقہ ہے۔ امير المؤمنين حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مسجد قباء کی تجدید و تزئین فرمائی۔ اس کے بعد الولید بن عبدالملک نے اپنے دور حکومت میں اپنے چچا زاد بھائی اور مدینہ منورہ کے والی حضرت عمر بن عبدالعزیز کو ہدایت دی کہ وہ مسجد قباء کی تعمیر کی تجدید کریں۔ انہوں نے مسجد کی توسیع کروائی اور پہلی مرتبہ اس کا مینار تعمیر کروایا اور صحن کے اطراف برآمدوں اور راہ داریوں کا اضافہ کیا۔

مملکت سعودی عرب کے قیام کے بعد شاہ فیصل بن عبدالعزیز مرحوم نے مسجد قباء کی تعمیر میں تجدید کی بالخصوص اس کی بیرونی دیواروں پر توجہ دی۔ خواتین کے داخلے کے لیے علاحدہ راستہ بنایا گیا اور اس کے مینار کو مسجد کے دائرے میں شامل کر لیا گیا۔ اس سے قبل یہ مینار شمال مغربی کونے میں علاحدہ نظر آتا تھا۔ مذکورہ توسیع پر 8 لاکھ سعودی ریال خرچ ہوئے جس کے بعد مسجد کا طول و عرض 40 میٹر ہو گیا۔

بعد ازاں شاہ فہد بن عبدالعزیز مرحوم نے مسجد قباء کی توسیع کی جس کے بعد اس میں 20 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہو گئی۔ مسجد قباء میں مقرر کیے جانے والے آئمہ کرام اور خطیبوں میں صالح المغامسی، محمد عابد بن محمد كامل بن الياس الحافظ السندی، ڈاکٹر عماد زہير حافظ، ڈاکٹر محمد بن زربان الغامدی، محمد خليل اور احمد الحذيفی نمایاں شخصیات ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں