.

سعودی عرب کے برفانی پہاڑ 'جبل اللوز' کی حضرت موسیٰ سے کیا نسبت؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے بلند وبالا برفانی پہاڑوں میں 'جبل اللوز' سب سے اونچا پہاڑ سمجھا جاتا ہے جس کی سطح سمندر سے بلندی 2600 میٹر ہے۔

جبال حاسمی پہاڑی سلسلے میں واقع 'جبل اللوز' بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کے اطراف مں السروات کا پہاڑی سلسلہ واقع ہے۔ گذشتہ روز سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے کابینہ کے ارکان کے ہمراہ اس پہاڑ کا دورہ کیا۔

'جبل اللوز' کو اطراف میں وسیع پیمانے پر پھیلے بادام کے درختوں کی وجہ سے جبل اللوز کا نام دیا جاتا ہے۔ سردیوں کے موسم میں اس پہاڑ کی بلند چوٹیاں برف باری سے سفید چادر اوڑھ لیتی ہیں۔

سعودی عرب میں یہ پہاڑی سلسلہ تبوک گورنری کے مغرب میں 200 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ گرینائیٹ جیسی معدنیات سے مالا مال یہ پہاڑ تبوک کا خوبصورت اور پر فضاء مقام سمجھا جاتا ہے۔

پہاڑ کے دامن میں قدرتی جڑی بوٹیوں سے بھرپور وادیاں واقع ہیں جن کے دشوار گذارراستوں کی وجہ سے ان تک پہنچنا کوئی آسان کام نہیں۔ پہاڑ کےاطراف میں چٹانوں پر زمانہ قدیم کے نقش ونگار، خاکے اور تحریریں ملت ہیں۔ بعض پتھروں پر گائے، بھینس اور دیگر جانوروں کی تصاویر بھی بنائی گئی ہیں کی تاریخ 10 ہزار سال پرانی بتائی جاتی ہے۔

"جبل اللوز" کی شمالی سمت میں ایک چٹان دو حصوں میں منقسم ہے۔ کئی تاریخی مصادر اور مآخذ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس چٹان کے قریب حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی قیام کیا کرتے تھے۔

پہاڑ کے قریب البدع گورنری اور شعیب غاریں واقع ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے پہلے سفر میں وارد ہوئے۔ یہاں پر کئی مقامات کو حضرت موسیٰ کے نام سے موسوم ہیں، ان میں بئر موسیٰ بھی شامل ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں بھی موجود ہے۔ حضرت موسیٰ‌ نے اسی کنوئیں سے دو لڑکیوں کے مویشیوں کو پانی پلایا تھا۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اس پہاڑی سلسلے کے اطراف پتھروں پر گائے اور بھینسوں کے خاکے 40 راتوں تک حضرت موسیٰ کی عدم موجودگی کے دوران لوگوں نے اس وقت بنائے تھے جب انہوں نے بچھڑے کی پوجھا شروع کردی ہیں۔ اطراف کی ایک وادی کو 'وادی' موسیٰ کام نام دیا جاتا ہے۔ قرآن میں مذکور وادی طویٰ بھی اسی پہاڑ کے دامن میں ہے۔