.

سقوط صدام کے بعد سے کون سے امریکی صدور عراق کا دورہ کر چکے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ بدھ کے روز عراق کا خفیہ اور مختصر دورہ کیا گیا تو وہ 2003ء کے بعد امریکا کے تیسرے صدر ہیں، جنہوں نے کرسمس کے موقع پر عراق کا غیر علانیہ دورہ کیا ہے۔

جارج بش جونیئر وہ پہلے امریکی صدر تھے جنہوں نے صدام حسین کی حکومت کے سقوط کے بعد عراق کا دورہ کیا۔ نومبر 2003 میں ہونے والا یہ دورہ انتہائی خفیہ اور غیر معمولی سکیورٹی اقدامات میں کیا گیا۔ بعد ازاں جارج بش جونیئر نے عراق کے مزید تین دورے کیے۔ سال 2006 میں دوسرے دورے میں انہوں نے عراقی وزیراعظم نوری المالکی سے ملاقات کی۔ ستمبر 2007 میں تیسرے دورے کے دوران وہ عراق میں امریکی فوج کے اڈے عین الاسد گئے۔ جارج بش جونیئر کا عراق کا آخری دورہ صدر کا عہدہ چھوڑنے سے دو ماہ قبل دسمبر 2008 میں ہوا تھا۔ اسی دورے میں وہ ناقابل فراموش واقعہ پیش آیا تھا جب عراقی صحافی منتظر الزیدی نے بغداد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر کو اپنا جوتا دے مارا۔

امریکا کے 44 ویں صدر باراک اوباما وہ دوسرے صدر تھے جنہوں نے 2003 کے بعد عراق کا دورہ کیا۔ انہوں نے اپنا اکلوتا دورہ اپریل 2009 میں کیا تھا۔ اوباما کا یہ دورہ 4 گھنٹوں سے زیادہ کا نہیں تھا۔ اس دوران وہ بغداد میں النصر کے فوجی اڈے میں موجود رہے۔

اس سلسلے میں تیسرا نمبر موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ہے جو خاتون اول ملانیا کے ساتھ رواں سال کرسمس منانے کی غرض سے عراق پہنچے۔ انہوں نے انبار صوبے میں واقع عین الاسد کے فضائی اڈے پر امریکی فوجی اہل کاروں سے ملاقات کی۔ البتہ امریکی صدر کسی عراقی اعلی عہدے دار سے نہیں ملے۔

ٹرمپ کے اچانک دورے پر عراقی سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آئے ہیں۔ بعض لوگوں نے اسے عراقی سیاست اور خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے میڈیا بیورو کی جانب سے جاری بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عراقی حکومت کو امریکی صدر کے دورے کا پہلے سے علم تھا۔

عادل عبدالمہدی کو ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنا تھی تاہم عراقی وزیراعظم کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا کہ ملاقات کی جگہ کے حوالے سے اختلاف کے سبب دو طرفہ مشترکہ امور پر بات چیت کے لیے ٹیلیفونک رابطے پر ہی اکتفا کیا گیا۔