.

عربی زبان کی گرامر سیکھنے میں مشکل کیوں پیش آتی ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عربی زبان کی تعلیم حاصل کرنے والے بہت سے افراد کو اس کے علم نحو (گرامر کا ایک شعبہ) کو سیکھنے میں مشکل کا سامنا ہوتا ہے اور یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ اس مشکل کو دور کرنے کے واسطے بہت سی نمایاں کوششیں کی گئیں۔ اس سلسلے میں کبھی علم نحو کی کتابوں کو مختصر کیا گیا، کبھی نحو کی تدریس کے طریقہ کار کو تبدیل کیا گیا اور کبھی ںحو کے بعض قواعد کو حذف کیا گیا یا ان میں ترامیم کی گئیں۔

قدیم دور کے عرب ماہرین نحو کو وسعت دینے میں مصروف رہے تا کہ ایسے قوانین وضع کیے جائیں جن سے زبان کی سلامتی کو مکمل درستی اور فصاحت کے ساتھ یقینی بنایا جا سکے۔

ڈاکٹر عبدالوارث مبروک سعيد نے نحو کی اصلاح کے سلسلے میں اپنی تالیف (في إصلاح النحو العربي) میں درجنوں عربی تصنیفات کے نام جمع کیے جن کا مقصد نحو کو اختصار کے ساتھ پیش کرنا تھا۔ ان کتابوں کا مقصد علم نحو کو طوالت سے نجات دینا تھا۔ ان کتابوں میں خلف الاحمر کی (مقدمة في النحو) ، کسائی کی (مختصر في النحو) ، ابو موسی الحامض کی (مختصر النحو) ، ابن الخیاط کی (الموجز) ، الزجاجی کی (الجمل) اور ابو جعفر النحاس کی (التفاحة في النحو) قابل ذکر ہیں۔ ابو جعفر کی کاوش اس سلسلے میں بہترین کتاب شمار کی جاتی ہے۔

علم نحو کی پرانی کتابوں میں کئی عیب پائے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالوارث مبروک سعيد نے اپنی تالیف (في إصلاح النحو العربي) میں ان عیبوں پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ ان عیبوں میں (الاضطراب) جس نے ایسے انوکھے مظاہر کو جنم دیا جو آج تک علم نحو کی تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے بڑی مشکلات کا ذریعہ ہیں۔ اس کے علاوہ (التطويل) یعنی علم نحو کی کتابیں انتہائی طوالت سے دوچار ہیں جن میں تکرار اور بھرمار وافر طریقے سے موجود ہیں۔ اس کے بعد (جمود اللغة) یعنی نحو کی اکثر پرانی کتابوں کی زبان خشک اور حد سے زیادہ سختی کا شکار ہے ،،، اور پھر (الجفاف) یعنی خالص نظریاتی قواعد کے سبب ان میں تشنگی پائی جاتی ہے۔

خلف بن حیان الاحمر البصری (وفات : 180 ہجری) نے اپنی تالیف کو علم نحو کی کتابوں کے عمومی عیبوں سے پاک رکھنے کے لیے خصوصی محنت کی۔ انہوں نے پڑھنے والوں کے لیے نحو کے اصولوں کو ایسے مختصر اور جامع انداز سے پیش کیا ہے کہ جو کوئی ان کو پڑھ کر ذہن نشیں کر لے تو وہ علم نحو کے تمام قواعد سیکھ لے گا۔

تطویل یعنی طوالت علم نحو کی کتابوں کا معروف ترین اور سب سے پرانا عیب ہے۔ خلف الاحمر اور دیگر نحویوں کی کتابوں نے علم نحو کی کتابوں کے عیوب کا مسئلہ مکمل طور پر اختتام کو نہیں پہنچایا۔ بعد ازاں نحو کی کتابوں کے عیبوں کو دور کرنے کے لیے ابن مضاء احمد بن عبدالرحمن اللخمی القرطبی (513 - 592 ہجری) کی کتاب (الرد على النحاة) منظر عام پر آئی۔ ابن مضاء نے اپنی کتاب میں نحویوں کو غیر ضروری امور سے بے نیاز کرتے ہوئے (العوامل) اور (الحذف والتقدير) کو ختم کرنے کا خیال پیش کیا۔

ڈاکٹر محمد ابراہيم البنا نے اپنی کتاب کے پیش لفظ میں اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ابن مضاء وہ واحد شخصیت نہیں جس نے علم نحو کی کتابوں سے حذف کا خیال پیش کیا۔ ان سے قبل ابن حزم الظاهری (وفات : 456 ہجری) ، ابن سنان الخفاجی (وفات : 466 ہجری) اور یگر نحوی بھی یہ کام انجام دے چکے ہیں۔

عربی زبان میں علم نحو کی اصلاح کی جدید دور کی کوششوں کا آغاز اٹھارویں صدی عیسوی سے ہوا۔ یہ تمام تر کوششیں اس بنیادی اصول پر عمل میں آئیں کہ علم نحو کو سادہ اور آسان بنانے کے ساتھ ساتھ ایسے امور سے پاک کیا جائے جن کی طالب علم کو ضرورت نہیں۔

مصر سے تعلق رکھنے والے رفاعہ الطہطاوی (1801-1873ء) کی کتاب (التحفة المكتبية لتقريب اللغة العربية) جو 1868 میں شائع ہوئی ،،، علم نحو کی اصلاح کے سلسلے میں تالیف کی جانے والی اولین اور اہم ترین کتابوں میں سے ہے۔ کتاب میں آسان اور براہ راست زبان کا استعمال کیا گیا اور نحویوں کے اختلاف سے گریز کیا گیا۔

اس کے چند سال بعد 1887ء میں "الدروس النحوية لتلاميذ المدارس الابتدائية" اور 1891ء میں "الدروس النحوية لتلاميذ المدارس الثانوية" منظر عام پر آئیں۔ بعد ازاں 1929ء میں مرسی مصطفی الحمیدی کی کتاب "النحو الحديث" شائع ہوئی ،،، اور پھر اس سلسلے میں درجنوں کتابیں، تحقیقات اور مقالے سامنے آئے۔ ان میں 1958ء میں شائع ہونے والی "تحرير النحو" ، عباس حسن کی "النحو الوافي" اور محمد عید کی "النحو المصفى" شامل ہیں۔

مصری ماہر نحو ابو جعفر النحاس کی کتاب (التفاحة في النحو) دس صدیوں سے زیادہ گزر جانے کے باوجود آج بھی اسکولوں میں نحو کی تعلیم دینے کے لیے موزوں ہے۔

"یہ بات ایک مسلمہ امر ہے کہ عربی زبان میں علم نحو کی مشکلات خود ساختہ ‘نحوی پلیٹ فارم’ کی پیدا کردہ ہیں جو "پڑھنے والے کو کثرت ابواب، ان کی شاخوں اور ایسے فرضی صیغوں کے سبب تھکا ڈالتی ہیں جن کا زبان کے لسانیاتی استعمال میں کوئی کردار نہیں"۔ یہ بات سعودی عرب کے شہر طائف میں ایجوکیشن کالج کی سربراہ ڈاکٹر نجات عبدالرحمن علی نے اپنے ایک تحقیقی مقالے میں کہی۔ ڈاکٹر نجات نے یہ مقالہ 2009 میں علم نحو ، علم صرف اور علم عروض سے متعلق قاہرہ میں منعقد ہونے والی پانچویں بین الاقوامی کانفرنس میں پیش کیا تھا۔

انہوں نے اپنے مقالے میں یہ کہا کہ ،،، گرامر کے قواعد کو اب "منظم انداز میں رابطہ کاری کے ساتھ سمجھانے" اور مواد کو "جدید عصری اسلوب" کے ساتھ پیش کرنے کی ضرورت ہے جو طالب کے لیے غیر ضروری تفصیلات اور تعلیلات سے خالی ہو۔ زبان کے قواعد پر نظر ثانی کر کے غیر مفید چیزوں سے بے نیاز ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ طلبہ کی اکثریت علم نحو کے اسباق سے متنفر ہو کر انہیں بنا کسی چاہت اور لطف اندوز ہوئے بغیر سنتے ہیں کیوں کہ انہیں خشک طریقے سے نحو کی تعلیم دی جاتی ہے۔

دمشق میں واقع عرب اکیڈمی نے 2002ء میں اُن تمام عیوب کا اقرار کیا جو علم نحو کی کتابوں میں پائے جاتے رہے۔ عراق کے مرحوم علامہ احمد مطلوب نے مجمل طور پر ان کا ذکر کیا۔ ان میں "متن سے زیادہ قواعد پر توجہ" ، "علتوں اور بحثوں کی کثرت" ، "اصطلاحات کی کثرت"، "کثرت آراء" اور "مثالوں کا جمود" اہم ترین ہیں۔ علامہ نے اپنی بات کے اختتام پر کہا کہ معاصر طلبہ ایسا علم نحو چاہتے ہیں جو "آسان فہم ہو، اس کے قواعد واضح ہوں، مثالیں شان دار ہوں اور اس میں زمانے کی روح کا بھرپور اظہار ہو"۔